fbpx

پی ٹی آئی والے پاک فوج کو نشانہ بنائیں تو سامنے پہلا سینہ مارخور کا ہی آئے گا ناں

لاہور:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب سے وزیراعظم ہاوس سے ایک آئینی طریقے عدم اعتماد کے ذریعے نکالے گئے تب سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کرسی وزیراعظم کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے بس انہیں کرسی ملنی چاہئے ۔ عمران خان کے اسکےبعد کے بیانات سے ملک دشمنی واضح عیاں ہوتی ہے عمران خان نے ملکی سلامتی کے اداروں پاکستان کے محافظوں ۔ آرمی چیف ۔ڈی جی آئی ایس آئی سب پر بے جا الزامات لگائے اور اب بھئ لگا رہے ہیں عمران خان یہ کیوں نہیں سوچتے کہ انکو آئینی طریقے سے نکالا گیا اس میں کسی کا کوئی ہاتھ نہیں بس انکو چاہئے تو کرسی وہ بھی وزیراعظم کی۔

 

عمران خان نہ صرف خود اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں بلکہ انکی سوشل میڈیا ٹیم اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی مسلسل اداروں پر بے جا الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ اب عمران خان لاہور سے لانگ مارچ لے کر نکلے ہیں لیکن وہ لانگ مارچ شاٹ مارچ بن چکا ہے اور عمران خان شرکاء سے خطاب کے لیے لاہور سے روز جاتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔ اس دوران عمران خان میڈیا سے بھئ بات کرتے ہیں لانگ مارچ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات عائد کیے لیکن وہ کیا جانیں کہ پاک فوج کا نظم و ضبط کیسا ہے ؟ پاک فوج ایمان اتحاد اور تنظیم پر یقین رکھتی ہے اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے نبرد آزما ہے ۔ آئی ایس آئی دنیا کی مانی ہوئی خفیہ ایجنسی ہے جس نے ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنیوالوں کے خلاف کامیاب ترین آپریشن کیے ۔ لانگ مارچ میں عمران خان سے سوال کرتے ہوئے ملیحہ ہاشمی کہتی ہیں کہ 75 وزراء ہونے کے باوجود ڈی جی آئی ایس آئی کو پریس کانفرنس کیوں کرنی پڑی؟ اسکا جواب سادہ سا ہے۔ جس پہ حملہ کیا جائے گا، وہی دفاع کریگا۔ جب پی ٹی آئی کے لوگ فوج کا نشانہ باندھیں گے، تو سامنے پہلا سینہ مارخور کا ہی آئے گا نا۔

:یہ کہنا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس کر کے غلط کیا، اپنے آپ کو اور اپنے ادارے کو نقصان پہنچایا، سراسر غلط ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے حقائق قوم کے سامنے رکھے اور سچ بات کی۔ اب یہ صحیح تھا یا غلط، یہ فیصلہ تو عوام کا ہے۔ البتہ جسکا جھوٹ پکڑا گیا، وہ تو اس کانفرنس کو نقصان دہ ہی کہے گا