fbpx

عمران خان پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ تھانہ سٹی وزیرآباد میں درج

عمران خان پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ تھانہ سٹی وزیرآباد میں درج کرلیا گیا ،مقدمہ گرفتار ملزم نوید اور دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا-

باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ قتل، اقدام قتل ، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیاگیا ہے، مقدمے میں موقع سے گرفتار ملزم نوید کو باقاعدہ نامزد کیا گیا ہے ، مقدمے میں عمران خان کے نامزد کردہ کوئی نام نہیں ہیں-

پرویز الہی کی عمران خان کو وزارت اعلی سے مستعفٰی ہونے کی دھمکی

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کو کل سپریم کورٹ میں پیش کیاجائےگا سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ایف آئی آر کو عام کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آج دوران سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان پرقاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرنےکی ہدایت دی تھی۔

یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 3 نومبر کو وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جمعرات کو بہت افسوسناک واقعہ پیش آیا، کیا واقعے کا مقدمہ درج ہو چکا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے بتایا تھا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق زیادہ نہیں جانتا، ایف آئی آردرج کرانے کی کوشش کی گئی تھی، شاید اب تک درج نہیں ہوئی۔

حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد "کوچی”کا بیان سامنے…

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ایف آئی آر نہ ہونے کا مطلب ہے اب تک پولیس تحقیقات شروع نہیں ہوئیں، پولیس نے تحقیقات نہیں کیں تو ممکن ہے جائے وقوعہ سے شواہد مٹا دیے گئے ہوں، اس طرح کیس کے ثبوت متنازع اور بعد میں عدالت میں ناقابل قبول ہوں گے کرمنل جسٹس سسٹم کے تحت پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کو 24 گھنٹوں میں حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مقدمہ درج نہ ہوا سو موٹو نوٹس لیں گے۔

احتجاج کے دوران میڈیا کارکن بھی پی ٹی آئی کارکنان سے محفوظ نہ رہے