حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں؟ عمران خان

0
24
imran and bushra

سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت منتقلی کی درخواست منظورکر لی گئی

کمشنر آفس اسلام آباد نے سابق وزیراعظم کی درخواست منظور کرلی ، جاری نوٹفکیشن کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کو ضمانتوں کی درخواست لیے ضلعی کچہری کا درجہ دیا جاتا ہے، جوڈیشل کمپلیکس کو آج ضلعی کچہری کا درجہ دیا جاتا ہے، سابق وزیراعظم کے 7 مقدمات کی درخواستِ ضمانت پر سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی

اسلام آباد ہائیکورٹ ،سیشن کورٹ ایک روز کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ از خود عدالت منتقل نہیں کر سکتی، یہ کرنا چیف کمشنر نے ہی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے، وکیل نے کہا کہ ایف ایٹ سے متعلقہ کورٹ جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنی ہے،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے اس متعلق چیف کمشنر کو درخواست دی ہے؟ بیرسٹر گوہرنے کہا کہ وقت کم تھا ہم چیف کمشنر کو درخواست نہیں دے سکے، ہم نے درخواست دی تو یہ نا ہو وہ عدالت کی منتقلی نا کریں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت کہہ دیتی ہے وہ کر دیں گے ، عمران خان کے وکلا آج چیف کمشنر کو درخواست دیں گے ، چیف کمشنر اس حوالے سے درخواست پر فیصلہ کریں گے ، ابھی یہ درخواست نمٹا رہے ہیں ،آپ کی درخواست پر آپ کے خلاف فیصلہ آئے تو دوبارہ درخواست دائر کر سکتے ہیں ،

سابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے عدالت پیشی کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کی ہے، عمران خان سے سوال کیا گیا کہ ن لیگ نے واضح کیا کہ مزکرات وزیراعظم شہباز شریف سے ہونگے آپ کیوں اسٹیبلشمنٹ کو بیچ میں لاتے ہیں. عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل طاقت اور فیصلہ ساز تو اسٹیبلشمنٹ ہے نا ،سوال کیا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو کہا تھا کہ اکانومی کے چارٹر پر ملکر بیٹھنا ہو گا.عمران خان نے کہا کہ ان حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں، سوال کیا گیا کہ سیاستدانوں نے خود مل کر ہی تو جمہوری دستاویزات پر دستخط کئے آپ کیوں نہیں بات کرنا پسند کرتے. جس پر عمران خان نے کہاکہ فیصلہ ساز تو وہ ہیں نا ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں.

کیس کی سماعت ختم ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں موجود رہے، سابق وزیراعظم نے کمرہ عدالت میں خاتون وکیل سے گفتگو کی، خاتون وکیل نے کہا کہ خان صاحب مسکرائیں، آپکی مسکراہٹ ہی ہمارے لئے امید ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا آپکو لگ رہا ہے کہ میں کسی پریشر میں ہوں، قرضوں پر سود فیڈرل بجٹ سے زیادہ ہے بجٹ کی فگرز میچ نہیں کر رہی ،سوال کیا گیا کہ کیا آپ پر کوئی پریشر ہے، عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے جو بجٹ دیا ہے اس کو آگے کون چلائے گا قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے ملک کی آمدنی بڑھانے کے علاؤہ کوئی حل نہیں مل کا دیوالیہ نکل گیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے ایکسپورٹس 13 فیصد نیچے گر گئی ہےڈالر کم ہوگئے ہیں جو طاقتیں بیٹھی ہیں ان سے پوچھتا ہوں ٹھیک ہے آپ نے مجھے باہر کردیا لیکن کیا یہ حل ہے؟؟ملک کو کون اس دلدل سے نکالے گا ؟؟ آگے ان کا پلان کیا ہے؟؟؟ میری بہن کے اوپر 6 ارب روپے کی زمین کا الزام ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ صحافی وہاں جا کر خود دیکھیں اور اس کی قیمت کا تخمینہ لگائیں میں ان کو کہتا ہوں کہ ہم انہیں 5 ارب کی بیچ دیتے ہیں،

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی نے آج ایک دن عدالت جوڈیشل منتقلی کی درخواست دے دی ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے درخواست دائر کی ،چیف کمشنر اسلام آباد کو درخواست دی گئی جس میں کہا گیا کہ سیشن کورٹ کو آج ایک دن کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کیا جائے ، 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کرنی ہے ایف ایٹ کچہری میں سیکورٹی تھریٹ ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست چیف کمشنر کو دینے کی ہدایت کی ہے ،آج ایک دن کے لئے سیشن کورٹ کو جوڈیشنل کمپلیکس منتقل کیا جائے

عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

 وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

Leave a reply