fbpx

اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

ہم جس ملک اور معاشرے میں رہتے ہیں یہاں تعلیم عام ہونے کے باوجود ہمارے اندر برداشت اور تحمل کا بہت فقدان ہے۔ عام طور پر ایک چیز جو کافی عرصے سے مسلسل میں نوٹ کر رہا ہوں وہ دو لفظ ( اختلاف اور مخالفت ) ہیں جن کا ہمارے معاشرے اور ملک کی اکثریت کو فرق شاید معلوم نہیں تب ہی تو عدم برداشت ، غصّہ اور لڑی جھگڑوں کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے حتی کہ بعض اوقات بات دشمنیوں تک پہنچ جاتی ہے فقط اس ایک فرق سے غفلت کے باعث آچھے اچھے تعلق اور رشتے کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اختلاف کا مطلب ہے کسی معاملے سے اتفاق نہ کرنا یا کسی کی کی گئی بات سے متفق نہ ہونا اور اپنی ایک الگ رائے کا ہونا ہے یا کسی کا ہماری کی گئی بات اور مشورے سے اپنی ذاتی ایک الگ سوچ اور رائے کا ہونا جو کہ انتہائی اچھی بات بھی ہے اختلاف رائے کو گفت وشنید اور بحث کا حسن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اختلاف رائے سے کسی بھی معاملے کا ایک نیا رخ سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی کے اختلاف کو مخالفت سمجھ بیٹھنا یہ غلط ہے۔ کیونکہ مخالفت تو ہمیشہ دشمنی اور عداوت کی راہوں پر لے جاتی ہے۔ باقی جیسے کہ واضح ہوچکا ہے کہ اختلاف کو گفت وشنید اور بحث و مباحثے کا حسن اور جان سمجھا جاتا ہے تو ہمیں سمجھ سے کام لینا چاہیے اور کسی کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اور اسی طرح ہمیں بھی اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہو تو اختلاف رائے آپ کا بھی حق ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ اختلاف ضرور کریں لیکن ادب کے اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ کیوں کہ جیسا کہ یہ قوم پہلے ہی عدم برداشت کا شکار ہے تو ایسے میں اگر بندہ تہذیب و گفتگو کے اصولوں کو بھی نظر انداز کر دے تو یہ چیز انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور مخالفتوں و ناراضی گیوں کی وجہ بنا سکتی ہیں۔ اختلاف تو دو بھائیوں میں ہو جاتا ہے باپ بیٹے میں ہو جاتا ہے دو دوستوں میں ہو جاتا ہے استاد شاگرد میں ہو جاتا ہے لیکن اہم چیز جو ہے وہ ہے ادب اور محبت کے راویوں کا فروغ ہے۔ آپ ادب و احترام اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں اور اگر آپ خود ہی غلط ہوں تو برداشت کے اصولوں پر چلتے ہوئے اگلے بندے کی بات سننے کے بعد اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب اس فرق کو جاننے سے ممکن ہے اور خوش مزاجی و ادب کسی بھی معاملے کو سنجیدگی و عمدگی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں عام طور پر دو گروہ میں اختلاف اور مخالفت کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہماری سیاسی جماعتیں اور گروہ اور دوسرے ہمارا مذہبی طبقہ جو فرقوں اور گروہوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں کسی کو غلط ، سہی ، حق ، باطل یا اچھا برا کہنا مقصود نہیں صرف اختلاف ، مخالفت، عدم برداشت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا جیسے عوامل کی نشان دہی کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں بعض اوقات اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت نازک حدتک چلی جاتی ہیں اور ایک ہی ملک اور قوم کے لوگوں کو اپنے مفادات کی خاطر لڑنے مرنے تک پہنچا دیتے ہیں ایک دوسرے کو غلط اور نیچا دکھانے اور ثابت کرنے کے چکر میں تمام اصولوں کو پسے پشت ڈال دیتے ہیں اور اختلاف و مخالفت کا فرق بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی طبقہ بھی بعض اوقات مختلف مسئلے اور چیزوں پر ایک دوسرے سے مناسب اختلاف رکھنے کی بجائے مخالفت اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اور یوں اس کے اثر کے طور پر عام افراد بھی باقی ماندہ زندگی ایک دوسرے کے لیے سخت مخالف پالتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہی اگر سمجھ اور برداشت سے کام لیا جائے تو بہت سارے معاملات مناسب اختلاف رکھتے ہوئے بات چیت ، برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے حل کیے جاسکتے ہیں اور امن رواداری کی فضاء قائم کی جاسکتی ہے۔

@bachakhanzada5