fbpx

اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر ہے اور توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کے وفد کی سربراہ عائشہ عبدالخالق بٹ سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور آبپاشی اور بجلی دونوں مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا سستا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

اربوں روپے مالیت کا سیلابی پانی جو ضائع ہو جاتا ہے اس کو بھی متعدد مقاصد کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے باعث ہم گرمیوں میں سیلاب اور سردیوں میں بار بار خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سرحدی آبی تعاون وسیع علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت پاکستان اپنی توانائی کی 75 فیصد سے زیادہ ضروریات اندرونی وسائل سے پوری کرتا ہے جس میں سے 50.4 فیصد مقامی گیس، 28.4 فیصد مقامی اور درآمدی تیل جبکہ 12.7 فیصد پن بجلی سے پوری ہو رہی ہیں۔

قابل تجدید توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چار اہم قابل تجدید ذرائع ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور بائیو ماس دستیاب ہیں۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان میں دیرپا توانائی کے بحران کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو متنوع توانائی کی فراہمی کو بہتر بنانے، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ عائشہ عبدالخالق بٹ نے کہا کہ شمسی توانائی کے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں اتنا ہی قابل اعتماد ہے اور ماحول پر منفی اثر ڈالے بغیر بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر حصے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے اور سال میں 300 سے زیادہ دن سورج کی روشنی دستیاب ہے۔ مزید اظہار خیال کرتے ہوئے طلب اور رسد میں موجود فرق سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں روایتی ذرائع توانائی کی فراہمی سے قابل تجدید وسائل پر انحصار میں مستحکم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہیے۔

تاہم بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کے ساتھ سالانہ 8 سے 10 فیصد مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی خریداری کے لیے پالیسی کی حوصلہ افزائی اور اسے آسان بنایا جانا چاہیے۔

اس شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی طلب 11,000 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس لیے پائیدار توانائی کے حصول کے لیے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع نقطہ نظر اور پالیسی کی ضرورت ہے۔