fbpx

علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

_(حضرت علی ع)_
اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
_اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
*”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
*”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
*” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
*ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
*پاکستان ذندہ باد*
@hamzatareen4