ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوسف

ایمان کی طاقت
عمر یوسف

وہ زارو قطار آنسو بہاتے ہوئے اپنی داستان غم سنا رہی تھی ۔۔۔ اس کے الفاظ میں اتنا دکھ بھرا تھا کہ اردگرد کا سارا ماحول بھی غم میں ڈوب گیا ۔۔۔ پاس بیٹھے تمام لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔۔۔۔
ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے اس نے اپنے بھائی کو خوب یاد کیا ۔۔۔ اور یاد ماضی میں کھوئے ہوئے اس نے دل کی کیفیت بیان کرنا شروع کی ۔۔۔

اس کا بھائی کالج میں پڑھنے والا طالب علم تھا ۔۔۔ ایک دن اچانک کمر میں درد شروع ہوئی تو معمولی درد سمجھتے ہوئے اس پر توجہ نہ دی گئی ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ جب دکھ بڑھنا شروع ہوا تو چیک اپ کے لیے ہاسپٹل لے جایا گیا ۔۔۔ رپورٹ آئی تو سب کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔ ان سب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی یہ جان کر کہ اس نوجوان کو بلڈ کینسر تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے کینسر کے سپیشل ہاسپٹل میں رہفر کیا ۔۔۔ دن بدن کمزوری بڑھتی گئی ۔۔۔ کینسر اس کے جسم کو یوں کھا رہا تھا جیسے سوکھی لکڑی کو آگ کھاتی ہے ۔۔۔

ماں روز اپنے لعل کو دیکھ کر آنسو بہاتی اور اس کے ساتھ بندھی ہوئی امیدوں کو یاد کرکے روتی ۔۔۔۔ وہ تو اس کی شادی کے اپنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ تو اس مان میں تھی کہ کب اپنے لعل کی منگنی کروں اس کی دلہن کے لہے کپڑے خریدوں ۔۔۔۔

گھر کے صحن میں جواں سالہ بیٹے کو چلتے دیکھ کر باپ کا سینا فخر سے چوڑا ہوجاتا ۔۔۔ بہنیں اپنے گھبرو جوان بھائی کو دیکھتی تو یوں محسوس کرتیں کہ اس کے ہوتے ہوئے ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔

پھر آزمائش آئی اور مرض بڑھتا چلا گیا ۔۔۔ اور وہ وقت بھی آیا جب کینسر نے اپنا آخری حملہ کیا ۔۔۔ پہلے اس کے گردے فیل ہوئے ۔۔۔ پھر جگر نے کام کرنا شروع کیا ۔۔۔ آہستہ آہستہ حملہ دل کی طرف منتقل ہوا اور پھر دل نے دھڑکنا بند کردیا ۔۔۔ ایک کے بعد ایک ۔۔۔ جسم کے تمام اعضاء کام کرنا چھوڑ گئے ۔۔

اور پھر ماں کی آنکھوں کا تارا غروب ہوگیا ۔۔۔ باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک ختم ہوگئی اور جلن نے ڈھیرے ڈال دیے ۔۔۔ بہنیں جیسے بے یارو مددگار ہوگئیں ۔۔۔

ماں دنیا و ما فیھا سے بے خبر بے سدھ پڑی صدمے کی حالت میں چلی گئی ۔۔۔ باپ کی کمر ٹوٹی اور چارپائی سے دوستی ہوگئی ۔۔۔ بہنیں دیواروں کے ساتھ لگی اپنے بھائی کے کیے گئے وعدے یاد کرتیں اور یوں لگتا جیسے دل ڈوب سا گیا ہے ۔۔۔

اس دن میرے سامنے بیٹھے ہوئے اس نے کہا کہ جی کرتا ہے زور زور سے چلاوں دھارے مار مار کر بھائی کو واپس بلاوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد اب بھی جب اسے یاد کرتی ہوں تو پھر غم اسی شدت سے حملہ آور ہوتا ہے ۔۔۔
اس کے کالج کے سامنے سے گزروں تو بے ہوش ہوجاتی ہوں ۔۔۔ مجبورا وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔۔۔

اب بھی جب غم کی شدت ہوجائے ۔۔۔ دل بے قابو ہوجائے ۔۔۔ اوسان خطا ہوجائیں ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے ۔۔۔ تو پھر وہ اللہ یاد آتا ہے ۔۔۔ جسے یاد کرنے سے غم کی شدت ہلکی ہوجاتی ہے ۔۔۔ بے قابو دل قابو میں آجاتا ہے ۔۔۔ دل کو چین اور روح کو تسلی ملتی ہے ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا روشنی میں بدلنا شروع ہوجاتا ۔۔۔

پھر میں یہی کہتی ہوں کہ جو میرے اللہ کو منظور تھا وہی ہونا تھا ۔۔۔ اور یقینا ہم اس کی حکمتوں سے بے خبر ہیں ۔۔۔ وہ جو بھی ہمارے لیے کرتا ہے ۔۔۔ ہمارے فائدے کے لیے ہوتا ہے ۔۔۔ اے اللہ میں تجھ پہ راضی ہوئی ۔۔۔

قارئین ایمان کی طاقت جتنا بندے کو سکون عطا کرتی ہے اتنا دنیا کے کسی بھی ماہر نفسیات کے پاس نہیں ۔۔۔
اگر یہی مسئلہ کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آتا تو یقینا وہ کسی ماہر نفسیات کے کلینک کی زینت ہوتی ہے ۔۔۔

اگر تم مسلمان ہو ۔۔۔ مومن ہو ۔۔۔ تو تم دنیا کی سب سے عظیم نعمت رکھتے ہو ۔۔۔

اس نعمت کے حاصل ہونے پر لازم ہے کہ تم کہو الحمد للہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.