امام الحق کیخلاف سوشل میڈیا مہم چلانے والی ”لڑکی“ کی اصل حقیقت سامنے آ گئی، باغی کی خبر سچ نکلی

پاکستان کے نامور کرکٹر امام الحق کی مبینہ واٹس ایپ چیٹ سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلائی جارہی تھی تاہم اب اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ فریحہ نامی لڑکی کے اکاؤنٹ سے ان کے خلاف چلائی جانے والی بے ہودہ مہم کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک لڑکا چلا رہا تھا،


باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امام الحق پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سات سے آٹھ خواتین کو دھوکہ دیا اور ان سے بے وفائی کی ہے اور یہ کہ وہ اس دوران ان کے جذبات سے کھیلتے رہے، امام الحق کے بعد فریحہ نامی لڑکی کے اکاؤنٹ سے شاہین آفریدی کی ایک تصویر بھی شائع کی گئی اور کہا گیا ہے کہ وہ بابر اعظم، حسن علی اور شاداب خان سے متعلق بھی انکشافات کریں گے تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس لڑکے کی تصاویر اور پرانی ٹویٹس شیئر کر کے سارا پول کھول دیا ہے کہ یہ مہم کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک لڑکا چلا رہا تھا، اس سارے معاملہ کے بعد اب سوشل میڈیا پر اب یہ بحث جاری ہے کہ قومی کھلاڑیوں کے کرکٹ کیریئر کو داؤ پر لگانے کی کوشش کرنے والے اس شخص کو سزا دی جائے گی یا نہیں‌ جس نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا ہے،

واٹس اپ چیٹ کتنی حقیقت کتنا افسانہ، امام الحق کا کیریئر تباہ تو نہیں کیا جا رہا؟حقیقت جانئے اس رپورٹ میں

واضح رہے کہ باغی ٹی وی ڈاٹ کام نے پہلے ہی یہ بات کی تھی کہ ایک سازش کے تحت امام الحق کے کیریئر کو تباہ کرنے کی خوفناک سازش کی جارہی ہے، حقیقت ہے کہ یہ چیٹ اس وقت منظر عام پر لائی گئی جب امام الحق کی طرف سے ورلڈ کپ کے اہم میچوں اچھی کارکردگی دکھائی گئی، خاص طور پر ورلڈکپ کے آخری میچ میں بنگلہ دیش امام الحق نے سینچری سکور کی تھی، باغی کی جانب سے لکھا گیا تھا کہ اگرچہ سوشل میڈیا کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اورٹوئٹر پر یہ معاملہ ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہا لیکن باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ جس طرح منظم انداز میں یہ چیٹ وائرل کی گئی ہے اس سے سازش کی بو آتی ہے اور صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے کرکٹر کے کیریئر کو تباہ کرنے کی خوفناک سازش کی جا رہی ہے، اور اب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مذکورہ سازش کرنے والے لڑکے کی تصویر شیئر کرنے سے باغی کی خبر سچ ثابت ہو گئی ہے،


یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے کئی کرکٹرز کو اس طرح الزامات میں الجھا کر کرکٹ کی دنیا سے باہر کیا جا چکا ہے،سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر خبر سچ نہیں ہوتی، جھوٹی خبروں اور تصاویرکے ذریعے دوسروں کی عزت سے کھیلا جاتا ہے، یہ روش کسی طور بھی درست نہیں ہے، سوشل میڈیا کے صارفین خبر کی سچائی کی تحقیق کی بجائے اسے آگے شیئر کر دیتے ہیں یہ اخلاقی طور پر مناسب نہیں ہے، باغی نے یہ بھی لکھا تھا کہ لوگوں کی بات چیت ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر کسی کے خلاف محاذ نہیں کھولنا چاہیے۔ اس طرح کے رویوں کو فروغ دینا کسی طور بھی مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس معاملہ پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کاذاتی معاملہ ہے۔بورڈ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ امام الحق پاکستانی کرکٹر انضمام الحق کے بھتیجے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.