fbpx

بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

بجٹ سے پہلے رواں ہفتے میاں شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام پرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے ایکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے فی لیٹربہت بڑااضافہ کرکے عوام کوزندہ درگور کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیرہوگیاتھا کیونکہ یہ اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر قرض جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اس وقت پاکستان میں سیاسی بھونچال جمودکاشکار ہے۔عمران خان کی حکومت گر گئی اورپی ڈی ایم اتحادکی نئی حکومت بن گئی، کردار بدل گئے ،سابقہ حکمرانوں نے اپوزیشن کا درجہ حاصل کرلیا اور اپوزیشن حکمران بن گئی لیکن پاکستان کی اقتصادی بدقسمتی کا المیہ جاری ہے ۔جس کے سبب خدانخواستہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے سری لنکا کی طرح کے حالات پیداہونے کاخدشہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارت اورچین سمیت تینوں ملکوں نے امداد دینے کاکوئی وعدہ نہیں کیا ،جس سے میاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں،جس کاحل انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرنکالا۔پٹرولیم مصنوعات کی ہردورمیں ہرحکومت نے من چاہی قیمتیں مقررکیں اور آئی ایم ایف بھی ہربارپٹرول اوربجلی کی قیمت بڑھانے کامطالبہ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس تمباکوکی مصنوعات خاص طور پر سگریٹ کی قیمت بڑھانے کی کبھی بات نہیں کی گئی ،کافی عرصہ سے پاکستا ن میں سگریٹ پر ٹیکس نہیں لگایا گیا دنیابھر میں سب سے سستے سگریٹ پاکستان میں فروخت ہورہے ہیں ،کیاآئی ایم ایف کوپاکستان میںسستے سگریٹ دکھائی نہیں دیتے ؟اورسستے سگریٹس کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہونے والاخطیرزرمبادلہ دکھائی نہیںدیتا؟
پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔یہ ٹیکس لاگو نہ ہونے سے پاکستان میں سگریٹ نوشی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا تین کروڑ پاکستانی سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے سالانہ اموات ایک لاکھ 60 ہزار ہیں، یعنی روزانہ تقریبا 300 کے قریب لوگ مرجاتے ہیں۔ اتنی اموات تو کرونا سے بھی نہیںہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی تقریبا 100 ادویات کی قیمتوں میں تو 260 فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن جان لیوا سگریٹ پر ایک روپے کابھی ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والے معاشی نقصانات 615 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔

پاکستان میں آئندہ بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن تمباکو کمپنیاں مضر سگریٹ پر ٹیکس کم کرنے اور مزید قیمت نہ بڑھانے کے لیے اشتہارات سے یہ دعوی کر رہی ہیں کہ یہ سگریٹ ہی ہیں، جس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یہ ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں اوران ٹوبیکوکمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، اس رقم کا 71 فیصد صرف سرطان، امراض قلب اور پھیپڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ رقم سگریٹ کمپنیوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے بھی 5 گنا زیادہ ہے۔ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سگریٹ نوشی نوعمری میں شروع کی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے ترین سگریٹس کی دستیابی ہے جس سے نہ صرف نوجوان اس لت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کچھ کیسز میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر 6 سال ہے۔

تمباکونوشی کے عادی غریب طبقے سے وابستہ افراد سستے سگریٹ کی وجہ سے موت بآسانی خرید لیتے ہیں جبکہ اس کے باعث کینسر جیسے مہلک اور مہنگے مرض سے لڑ نہیں پاتے کیونکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ پر بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس کے ایک سال کے علاج کا لگ بھگ خرچہ کچھ اس طرح ہوتا ہے؛سرجری پر 300000 روپے، ریڈی ایشن کیلئے125000روپے، کیموتھراپی کیلئے 150000روپے جبکہ کل لاگت تقریبا 1075000 روپے تک آتی ہے۔ اب کہاں 60،70 روپے کے سگریٹ سے ہونے والا کینسر اور کہاں یہ 1075000روپے کی نئی زندگی،جس کی ادویات ودیگراخراجات علیحدہ ہیں۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکا کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔ سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلائی جائے تو یقینا حکومت آئندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔ڈاکٹر ضیا الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف این ایچ ایس آر سی نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف پٹرول کی قیمت بڑھانے پرتوزوردیتا ہے لیکن سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگاکرسگریٹ مہنگاکرنے کی بات نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کاتحفظ کرتاہے،سگریٹ پرٹیکس بڑھانے کا ایسا کوئی بھی مطالبہ سگریٹ بنانے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کونقصان پہنچ سکتاہے اس لئے آئی ایم ایف کبھی بھی پاکستانی حکومت کوسگریٹ مہنگے کرنے کامطالبہ نہیں کریگا۔

سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے فوری طور پر5 فیصد تمباکو نوشی میں کمی ہوگی ، اگر مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہوتارہے تو 10 فیصد تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سگریٹ مہنگی کرنے سے سب سے زیادہ نوجوان تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں ۔ نوجوانوں میں یہ رجحان بوڑھے افراد سے 2 گنازیادہ ہے۔ سگریٹ نوشوں میں 10 فیصد کمی کا مطلب پاکستانی معیشت کو 60 ارب روپے سالانہ کی بچت جبکہ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔ بہت سے ممالک نے سگریٹ کی قیمت میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔اب درست فیصلے کرنے کاوقت ہے، آنے والے بجٹ میں حکومت سیگریٹ پربھاری ٹیکس لگاکراس کی قیمت بڑھائے اس سے ایک توکثیرریونیوحاصل ہوگا دوسراسیگریٹ مہنگے ہونے سے نو جوانوں کی زندگیاں بھی بچ جائیں گی۔ وزیراعظم شہبازشریف صاحب آپ سگریٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی کا حکمنامہ جاری کر کے آپ لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان موت کے سوداگروں اور بین الاقوامی مافیا کو لگام آپ ہی ڈال سکتے ہیں ۔ اس مافیاکوپاکستان کی معیشت اور عوام کی جان سے کھیلنے نہ دیا جائے۔ بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچائیں، سگریٹ پر ایف ای ڈی میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کریں۔ ان کی قوت خرید سے باہر ہونے کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ بہت ضروری ہے۔سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے حکومت کے ریونیو میں اضافے کیساتھ یہ کم عمر افراد کی پہنچ سے دور ہوجائے گی مزید برآں اس کے بآسانی دستیاب نہ ہونے سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف ستھری ہوگی ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگاجس سے پاکستانی عوام صاف ستھرے ماحول میں سانس لیکر بیماریوں سے محفوظ پاکستان میں اپنی زندگیاں بسرکرسکے گی۔