آئی ایم ایف کا 25 ممالک کو قرضوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ ، پاکستان کا نام شامل ہے یا نہیں؟

آئی ایم ایف کا 25 ممالک کو کرونا سے لڑنے کے لیے قرضے میں سہولت دینے کا فیصلہ ، پاکستان کا نام شامل ہے یا نہیں؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے 25 ممالک کے لئے قرض ریلیف پروگرام کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 25 ممالک کو 50 کروڑ ڈالر کی امداد دی جائے گی

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری 25 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے،

آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم غریب ترین اور انتہائی کمزور ممالک کو اگلے چھ ماہ کے دوران قرضوں کے حوالہ سے گرانٹ دیں گے تا کہ ہنگامی طبی اور دیگر امدادی سامان کے لئے مالی وسائل کی کمی نہ ہو.آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا کے مطابق سی سی آر ٹرسٹ کے پاس 50 کروڑ ڈالر کے وسال موجود ہیں، جن میں سے 18.5 کروڑ ڈالر برطانیہ نے دیے، 10 کروڑ ڈالر جاپان اور دیگر رقوم چین، نیدر لینڈز اور دوسرے ملکوں سے ہے۔ مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق آئی ایم ایف کی کوشش ہے کہ یہ رقم 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 1.4 ارب ڈالر تک کر دی جائے

سی سی آر ٹرسٹ میں سے جن ممالک کو رقم دی جائے گی ان میں افغانستان، بینین، برکینا فاسو، سنٹرل ایفریقن ریپبلک،میڈاگاسکر، سیرا لیون، سولومون آئی لینڈ، ٹوگو، نائجر، ساو ٹوم اینڈ پرینشیپی، چیڈ، کوموروس، کانگو، گیمبیا، گنی، گنی بساو، لائبیریا، روانڈا، نیپال، تاجکستان اور یمن شامل ہیں تا ہم پاکستان کا نام اس میں شامل نہیں.

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ رقم عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام سے وابستہ ان غریب رکن ممالک کو آنے والے چھ ماہ کے لیے دی جائے گی تاکہ وہ آئی ایم ایف سے لیے قرضوں کی ذمہ داری پوری کر سکیں اور اپنے وسائل کو موجودہ حالات میں طبی اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کئی ملکوں میں قرضوں میں ریلیف کے حوالہ سے مطالبہ کیا تھا، آئی ایم ایف نے جن ممالک کو قرض سے ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے ان کو ریلیف آئی ایم ایف کے پروگرام سی سی ٹی آر کے ذریعے دیا جائے گا،جو 2015 میں قائم کیا گیا ہے،اور اب دوبارہ اسکی تشکیل کی گئی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.