fbpx

آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

کراچی: آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا:تاجربرادری،اطلاعات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری اس وقت سخت پریشان ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ کیا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کا جبر ہے یا پھربیوروکریسی کی ناہلی ہے کہ وہ ایک طئے شدہ بات پر عمل دراًمد نہیں کرواسکتے یا پھر شوکت ترین وزیراعظم پر بھاری ہیں کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسی کی رائے کا احترم نہیں کیا گیا

اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھی کی تاجر برادری سخت پریشان ہے ان کا کہنا ہے کہ عجیب معاملہ ہےکہ حکومت خود ہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور خود سرکار نے خود اپنا ہی بنایا قانون توڑ دیا

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس فری ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر ٹیکس لگادیا، تاجری برادری کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی درآمدات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی گئی ، تاجر برادری کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہونہیں سکتا کیونکہ وزیراعظم ہمیں یقین دہانئی کروا چکے ہیں ، لیکن سوچتے ہیں کہ پھروزیراعظم مجور ہیں کیا یا پھران کو بے خبر رکھا جارہا ہے

اس حوالے سے ایکسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی, اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کی مسئلہ کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وزیراعظم نے ہماری بات کو بڑے غور سے سُنا لیکن وزیرخزانہ شوکت ترین درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے

برآمدکنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا۔برآمدکنندہ عرفان اخلاص کے مطابق ای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں

اس حوالے سے ایکسپورٹرز نے مزید کہاکہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا,

ایکسپورٹرز نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ بات چیت کے دوران وزیرخزانہ اپنی بات پرڈٹے رہے اور کہا کہ ای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں,

اس بارے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی,وزیر خزانہ کا موقف ہے کہ ایکسپورٹرزای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں, جبکہ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگاای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں,

ایکسپورٹر ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہےایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا, ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کے خاتمے سے اب ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی درآمدات پر بھی 17فیصدٹیکس لاگو ہوجائے گا۔

ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ہمارا یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پھرآنے والے دنوں میں کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے اورپھر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے اور دیکھیں کہ کون ہےجو جبر کے ذریعے پاکستان کی ایکسپورٹرزکواپنے جبر کا نشانہ بنائے گا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!