ورلڈ ہیڈر ایڈ

ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

گزشتہ روز سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن محترم کنور دلشاد صاحب نے بلدیاتی انتخابات اور اصلاحات کے موضوع پر خوبصورت سیمنار کا انعقاد ایک پنج تارہ ریستوران میں کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور تھے۔ تقریب میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھیں۔اج ایک عرصے کے بعد ڈاکٹر مجاہد منصوری سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری ہمارے نفاذ اردو کے بالکل ابتدائی رہنماؤں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نفاذ اردو کی کوششوں کے حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نےہمیں کہا کہ دور جدید کی بہت سی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تحریک کے مخلص ساتھی پروفیسر جمیل بھٹی ‘ شاہد ستار شبلی اور پروفیسر اشتیاق احمد اس پر اپنے محدود وسائل کے باوجود سائنس’ معاشیات’ ادب اور کمپیوٹر کی اصطلاحات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تقریب میں تحریک انصاف کی ترجمان سیماں انوار’ قیوم نظامی’ سلمان عابد’ عظمی ‘ امریکہ میں مقیم سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر خان ‘ تحریک انصاف کے سپورٹس کے چئیر مین میاں جاوید’ وائس چیئرمین انعام الحق سلیم’ خلیل خان نورزئی’ کاشف سجن’ عبداللہ اعوان’ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اپنے خطاب میں گورنر صاحب کی توجہ عدالت عظمیٰ کےنفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد پر کروائی۔ ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی ہے’ آپ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں آپ بتائیے کہ دنیا کے کتنے ممالک میں یہ فراڈ ہورہا ہے کہ اراکین اسمبلی جلسے جلوس تو اپنی زبان میں کریں جب رکن اسمبلی بن جائیں تو اس اسمبلی کی کار روائی اپنے آقاؤں کی زبان میں کریں۔کیادنیا کے کسی ملک میں کسی غلامی کی زبان میں کار روائی کا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گورنر پنجاب نے نہ صرف ہمارے خیالات کی تائید و توصیف کی بلکہ انہوں نے اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ اردو اور پنجابی میں خطاب کیا۔ اپ نےکہا کہ ” اردو دے نال اپنی مادری زبان پنجابی وچ گال کرن دا سواد ای کچھ اور اے” گورنر صاحب نے ساری تقریر فی البدیہہ اور کھلے ڈھلے انداز اور خیالات کی روانی جوش و جذبے کے ساتھ کی۔ یہ فرق ہوتا ہے غلامی کی زبان میں اور اپنی زبان میں بات کرنے کا۔ غلامی کی زبان میں انسان صرف محدود الفاظ کے ساتھ بےتاثرچہرے سے کٹھ پتلی کی مانند بات کرتا ہے۔ حاضرین نے گورنر کے اردو خطاب کو بے حد سراہا۔کنور دلشاد بیورو کریٹ ہیں۔ پہلے وہ اپنا پیغام ہمیشہ انگریزی میں لکھتے تھے ۔لیکن یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ اس تقریب کا دعوت نامہ انہوں نے اردو میں بھیجا۔انہوں نے ہمیں مذید بتایا کہ ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں تمام مقررین انگریزی میں خطاب کریں گے "میں نے ان سے پیشگی ہی معذرت کرلی ہے کہ میں تقریب میں اردو ہی میں خطاب کرونگا” ہم بھی محترم کنور دلشاد صاحب کو ان کے اس احساس خودی سے بھرپور اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تہہ دل سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں گورنر کو اپنانفاذ اردو مشن پیغام دینے کا موقع ملا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.