fbpx

عمران خان کی وزیراعلیٰ پنجاب،پارٹی رہنماوں سمیت اہم شخصیات سےاہم ملاقاتیں

لاہور:عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب ،ارکان پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنماوں سے ملاقاتیں کی۔

سابق وزیراعظم نے پنجاب کابینہ کےلیے ناموں پر مشاورت کی اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو اہم ذمہ داری سونپ دی۔

عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام صاف وشفاف الیکشن سے ہی ممکن ہے، قوم کی توقعات اب پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ لوگ سیاست میں پیسہ بنانے آتے ہیں،لیکن اب عوامی شعور بیدار ہوچکا ہے، بچوں میں ملکی مسائل کے شعور کی بیداری خوش آئند ہے۔

 

عمران خان عدالت میں پیش، دس مقدمات میں ضمانت منظور

اس سے قبل عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی، اور عمران خان نے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ہدایات دی گئی ہیں، ریلیف سرگرمیوں پر عمران خان کو بریفنگ دی گئی ہے

ہم کسی صورت دوبارہ عمران خان کووزیراعظم نہیں بننے دیں‌ گے :فضل الرحمن

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، احساس پروگرام کے حوالے سے بھی میٹنگ ہوئی، عمران خان 6 ڈویژن کے ایم پی ایز سے آج مل رہے ہیں

 

 

چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ارکان اسمبلی،اقلیتی اور مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان نے شرکت کی ، اس موقع پر عمران خان نے الیکشن میں عمدہ کارکردگی پر ارکان اسمبلی کی کاوشوں کو سراہا
 

اجلاس میں لاہور اور گوجرانوالہ کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا،اجلاس میں سابق وزیر شفقت محمود، شہباز گل ،حافظ فرحت عباس،ڈاکٹریاسمین راشد،مراد راس، میان اسلم اقبال ،چیف وہیپ عباس علی شاہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے

 

 

اس کے ساتھ ساتھ ملتان اور بہاولپور ڈویژن کے ارکان اسمبلی نے عمران خان سے ملاقاتیں کیں اور اپنی اپنی تجاویز پیش کیں
اس موقع پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو نظر انداز کرنے والوں کا وقت گزر چکا ، جنوبی پنجاب پی ٹی آئی کا گڑھ تھا، ہے اور رہے گا۔