fbpx

عمران خان، عوام اور موت کا فرشتہ، نئے پاکستان کے روشن کارنامے

عمران خان، عوام اور موت کا فرشتہ، نئے پاکستان کے روشن کارنامے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے جتنے مرضی اجلاس ہو جائیں ، عمران خان جتنے مرضی دعوے کر لیں ۔ وزیر خزانہ جتنی مرضی خوشخبریاں سنا دیں ۔ جتنی مرضی بیرونی امداد مل جائے ۔ خطے میں ہم جتنے مرضی اہم پلیئر بن جائیں ۔ مگر عوامی مشکلات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا چناؤ کر رہا ہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس وقت نہ کسی کو کوئی آسرا ہو رہا ہے نہ ہی کسی کو کوئی سکون مل رہا ہے ۔ ڈینگی سے چلڈرن ہسپتال میں آج آٹھ ماہ کا بچہ موسی جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ ڈینگی شتر بے مہار پھیلاتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ مگر حکومت ، اندھوں ، گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پھر دن دیہاڑے نو بینکوں پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، رقم نکوالنے اور ڈیٹا چوری ہونی کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ مگر اسٹیٹ بینک میں نہ مانوں کی رٹ شروع کر دیتا ہے ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین جہاں عوام کو ایک بار پھر بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہیں ۔ تو عمران خان دلاسے دیتے دیکھائی دیتے ہیں کہ جلد مہنگائی سے متعلق ایک ریلیف پیکج کا اعلان ہوگا ۔ فی الحال عوام کے لیے خرشخبری یہ ہے کہ چینی اور ایل پی جی کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے ۔ پناہ گاہیں اور لنگر خانوں کے ڈرامے کا ایک بار پھر ڈراپ سین ہونے والا ہے ۔ موسم بدل چکا ہے ۔ پھر بھی سرد موسم میں پناہ گاہوں کی دیواروں کے ساتھ لوگ آپکو سوتے دیکھائی دیں گے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج بھی اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مزدور طبقے کی کمی نہیں ہے جو پارکوں،فٹ پاتھوں،گرین بلیٹس اور پلوں کے نیچے زندگی گزار دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ایک کمرے کا کرایہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ یہ کوئی بھکاری نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑوں شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اصل مہنگائی کا شکار یہ لوگ ہوئے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر گزاراکرنے پر مجبور ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ ملک کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ معاملات پلک جھپکتے ہی ٹھیک ہوجائیں لیکن حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں اور عوام کو آسانیاں فراہم کریں۔ احساس پروگرام اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ مگر رزلٹ صفر بٹا صفر ہے ۔ ۔ پھر ایک اور اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ کہ ملک میں بلین ٹری سونامی برپا کیا جائے گا ۔ آج لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو حقیقت معلوم ہوجائے ۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچکا ہے ۔ کبھی یہ پہلا نمبر دہلی کا ہوا کرتا تھا ۔ یہ درخت کہاں لگے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں میں بھی ڈھونڈتا ہوں ۔ آپ دیکھیں عمران خان کو ایک کمزور اور بے اثر اپوزیشن سے واسطہ پڑا تھا جو کسی بھی طرح عمران خان حکومت کیلئے کوئی خطرہ یا چیلنج نہیں ہے۔ پھر بھی عوام کے وہ معاشی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ اس حکومت کا اندھیر نگری چوپٹ راج دکھیں کہ ترجمان اور وزیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ یہ عوام میں بغیر سیکورٹی کے جا کر دیکھائیں تو تمام اشاریے تتر بتر ہوجائیں ۔ ان وزیروں اور بڑے افسروں کے لئے مہنگائی صرف میڈیا میں ہے جس پر یہ ایک نظر ڈال کر یہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام شاہ خرچیاں تو عوام برداشت کرتی ہے ۔ ان کو اپنی جیب سے پیڑول ڈلوانہ پڑے یا خرچہ کرنا پڑے تو لگے پتہ ۔۔۔۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں ماہانہ اضافہ 9.19فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اب ہر ماہ نو سے دس فیصد مہنگائی ہو اور حکومت کو عوام کی چینخیں سنائی نہ دیں ۔ تو پھر اس حکومت کو اندھا ، گونگا اور بہرہ ہی کہا جائے گا ۔ ۔ اس حکومت میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ اب صرف ہوا ، دھوپ اور بارش پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔ ویسے حکومت کی معاشی ٹیم کے بس میں ہو تو وہ ان نعمتوں پر بھی ٹیکس لگا دے۔ ۔ برطانیہ کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 ملکوں میں پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک ہے۔ اس وقت پاکستان میں بندہ مزدور و ملازم ہی نہیں، بندہ صنعتکار اور بندہ تاجر کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو حقیقی مسائل کا کوئی ادراک ہی نہیں۔ ہمارے موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ وہ اس سے پہلے کئی ممالک کی معیشتوں کو بے حال کر چکے ہیں۔۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم عوام کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔ غربت کا حال تو اُس سے پوچھیں کہ جس کے دودھ پیتے بچے کے لیے دودھ میسر نہیں۔ صرف تین روز پہلے بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کم خوراک ملنے کی کئی برس سے خان صاحب شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب اُن کے دور میں بچوں کو کم از کم خوراک بھی نہیں مل رہی۔۔ کہتے ہیں جنازے میں رو نہیں سکتے تو رونے والوں جیسا منہ ہی بنا لو۔ان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹ نہیں سکتے تو عوام سے یک جہتی کے لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی لینڈ کروزر اور مرسڈیز سے چھوٹی گاڑی پر آجاؤ۔ سرکاری ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں اس قدر مہنگائی پہلے کبھی نہ تھی۔ معیشت کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں یہ کم ہے مہنگائی اور بڑھے گی حال یہ ہے کہ غربت افلاس سے پریشان لوگ اپنے بچوں کو زہر دے کرخودکشیاں کر رہے ہیں اور کپتان تو کیا ان کی بی، سی، ڈی ٹیم کے بارھویں ،تیرھویں اور چودھویں کھلاڑی دو دو کروڑ کی سرکار ی گاڑیوں میں فراٹے بھر رہے ہیں ۔ کپتان کم ازکم عوام کے ساتھ رو نہیں سکتا لیکن ان کا دکھ سمجھ کر رونے والوں جیسی صورت ہی بنا لے ۔۔ اس حکومت نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ اب تو میری خواہش کہ کوئی اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرے کہ اقتدار پاتے ہی حکمران اپنے وعدے یکسر بھول کیوں جاتا ہے۔ اس کی نفسیات بالکل بدل کیوں جاتی ہے۔ پھر حکومت خود اپنے ہاتھوں سے نیب آرڈینس میں تیسری ترمیم کے ذریعے خود کو اور اپنی حکومت کو این آر او دے دیتی ہے ۔ ایسے احتساب کا گلہ پی ٹی آئی نے خود گھونٹ دیا ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور آرڈینس سے پارلیمنٹ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس آرڈینس کے چیدہ چیدہ مندراجات یہ ہیں کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کے جج کی طرز پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔ یوں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔۔ نئی ترامیم کے تحت مضاربہ کیسز بھی واپس نیب کے حوالے کردیے گئے اور ان کیسز کو 6اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کردیا گیا۔ ۔ حالیہ ترامیم کے تحت منی لانڈرنگ ریفرنسز اور مضاربہ اسکینڈل کیسز بحال ہوگئے جس سے آصف زرداری، شاہد خاقان، مریم نواز، شہباز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا اور پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسز پہلے کی طرح چلتے رہیں گے۔۔ اب اس ترمیم کے بعد یہ تو واضح ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ مگر جو درجنوں وزیروں اور پی ٹی آئی اراکین کے نام پینڈوار پیپرز میں آئے تھے ۔ ان سب کی موجیں ہیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے ۔ ۔ یوں صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ بھی اب دفن ہی سمجھیں ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اپنی پیدائش سے اب تک ایک ہی ڈبہ فلم دیکھتا آرہا ہوں ۔ پہلے بھی اسے فلاپ فلم کہتا تھا اور اب بھی اسی پر قائم ہوں ۔ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے انوکھانہیں ہے۔ ۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی اپنے ہی بوجھ سے ڈوبتی جارہی ہے اور یہ ہائبرڈ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جس کا آغازبلوچستان میں جام کمال کی حکومت کی ”باعزت رخصتی“سے شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک وفاق اور پنجاب کامعاملہ ہے تو بات صرف اس ایک نکتے پر رکی ہوئی ہے کہ اپوزیشن عبوری تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے تو بات absolutely notسے why not تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حالات کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔