fbpx

عمران فاروق قتل کیس،عدالتی دائرہ اختیار پر سوال اٹھ گئے

عمران فاروق قتل کیس،عدالتی دائرہ اختیار پر سوال اٹھ گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران فاروق قتل کیس میں سزاؤں کے خلاف مجرموں کی اپیلوں پرسماعت ہوئی

چیف جسٹس اسلام آباد اطہرمن اللہ اور جسٹس بابرستار پر مشتمل بینچ نے سماعت کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی دائرہ اختیار کا سوال اٹھا دیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان پاکستان آئے تو چمن بارڈر سے گرفتار کیا گیا، واقعہ انگلینڈ میں ہوا، ٹرائل پاکستان میں، قانون اس متعلق کیا کہتا ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر اور وکلا عدالتی دائرہ اختیار پر معاونت کریں،

عمران فاروق قتل کیس میں گرفتارملزمان کو سزا سنا دی گئی

عمران فاروق قتل کیس، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم انکشاف

واضح رہے کہ عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو عمر قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا ئی تھی ،اے ٹی سی اسلام آباد نے عمران فاروق قتل کیس کافیصلہ سنایا تھا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تینوں ملزمان عمران فاروق کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے ادا کریں گے، ملزم معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کا فیصلہ سنایا

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ثابت ہواعمران فاروق کوقتل کرنے کاحکم متحدہ بانی نے دیا، 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس کی وجوہات جاری کی گئی ہیں۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہاکہ ایم کیوایم لندن کے 2 سینئر رہنماﺅں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا ،معظم علی  نے نائن زیروسے قتل کیلئے لڑکوں کاانتخاب کیا،عمران فاروق کے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا،محسن اورکاشف کوبرطانیہ لےجا کر قتل کیلئے بھر پور مدد کی گئی

عمران فاروق قتل کیس، دوران سماعت وکیل نے کیا دعویٰ کر دیا؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.