fbpx

عمران فاروق قتل کیس، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم انکشاف

عمران فاروق قتل کیس، مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم انکشاف

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران فاروق قتل کیس میں مجرمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

وکیل نے کہا کہ محسن پر چاقو خریدنے کا الزام لگایا گیا لیکن کسی سیلز مین کو بطور گواہ نہیں لایا گیا،جس چاقو کو آلہ قتل کہا گیا وہ لندن میں کئی اسٹورز پر دستیاب ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کئی اسٹورز پر چاقو دستیاب ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا؟ وکیل نے کہا کہ ہم یہ کہتے ہیں وہ آلہ قتل محسن علی نے خریدا ہی نہیں تھا،عمران فاروق کی اہلیہ نے بیان قلمبند کرایا ،عمران فارق سے منسوب ایک خط کا ترجمہ دکھایا گیا، ترجمے کے مطابق عمران فاروق نے خط میں کہا تھا بانی ایم کیو ایم سے خطرہ ہے،مسئلہ یہ ہے اس خط کا صرف ترجمہ موجود ہے ، اصل خط دکھایا ہی نہیں گیا ،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ یہ خط عمران فاروق نے لکھا کس کے نام تھا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ یہ خط نہیں تھا ، عمران فاروق کی ڈائری کا ایک صفحہ تھا ،

عمران فاروق قتل کیس میں گرفتارملزمان کو سزا سنا دی گئی

واضح رہے کہ عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو عمر قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا ئی تھی ،اے ٹی سی اسلام آباد نے عمران فاروق قتل کیس کافیصلہ سنایا تھا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تینوں ملزمان عمران فاروق کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے ادا کریں گے، ملزم معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کا فیصلہ سنایا

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ثابت ہواعمران فاروق کوقتل کرنے کاحکم متحدہ بانی نے دیا، 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس کی وجوہات جاری کی گئی ہیں۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہاکہ ایم کیوایم لندن کے 2 سینئر رہنماﺅں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا ،معظم علی  نے نائن زیروسے قتل کیلئے لڑکوں کاانتخاب کیا،عمران فاروق کے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا،محسن اورکاشف کوبرطانیہ لےجا کر قتل کیلئے بھر پور مدد کی گئی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.