fbpx

عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
@Patriot_Mani