تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے
لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2رکنی بینچ سماعت کرے گا ،بائیو میٹرک نہ ہونے کی وجہ سے درخواست پر سماعت میں تاخیرہو رہی ہے،عدالتی ہدایت پر لاہور سے ہی عمران خان کی بائیو میٹرک کرائی جارہی ہے
لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات آج ہی پیش کرنے کا حکم دے دیا ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی کو کورٹ میں آنے سے روک نہیں سکتی، وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ معطل کر دئیے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کسی کو عدالت آنے سے روکا جا سکتا ہے، اگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وارنٹ معطل کر دئیے ہیں تو آپ میرے حکم ہر عملدرآمد کریں،
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض کیا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو عدالت میں تو آنے سے نہیں روکا جا سکتا ،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت پر سماعت کیلئے ساڑھے 5بجے کا وقت مقرر کر دیا لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کو ساڑھے5بجے تک پیش ہونے کی مہلت دے دی
عمران خان نے نو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لئے درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ہیں، درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جھوٹے اور بے جا مقدمے بنائے گئے، ضمانت دی جائے، ساتھ ہی عمران خان کی جانب سے زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ تک سیکورٹی کی فراہمی کے لئے بھی درخواست دائر کی گئی ہے،جس میں کہا گیا کہ زمان پارک سے سے لاہور ہائیکورٹ تک حفاظتی انتظامات کئے جائیں تمام درخواستوں پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے
دوسری جانب عمران خان نے ملک بھر میں مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہورہے ہیں وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں، درج مقدمات کا ریکارڈ دیں،پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے فریق بنائے گئے ہیں،
عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،
عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے







