عمران خان اپنے ذاتی اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں، مقامی اخبار کی خبر گمراہ کن ہے. وزارت خزانہ

وزارت خزانہ نے 12 جون 2019ء کو ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والی خبر کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے، وزارت خزانہ نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں دیگر اداروں کے بجٹ کو ظاہر کرتے ہوئے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حقیقت میں وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءچھیاسی کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بجٹ 30 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے اور ان دونوں رقوم کا مجموعہ ایک ارب 17 کروڑ روپے ہی بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 2019ءجلد اول (جاری اخراجات) صفحہ نمبر 302 سے صفحہ نمبر 310 تک رجوع کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ نمبر 303 سے صفحہ نمبر 308 تک وزیراعظم آفس کے بجٹ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ صفحہ نمبر 308 اور 309 پر این ڈی ایم اے کا بجٹ درج ہے لہذا محکمہ خزانہ نے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں این ڈی ایم اے کے بجٹ کو ملا کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

وزارت خزانہ کی پریس ریلیز میں‌ کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے وزیراعظم آفس کا ماتحت ادارہ ہے لہذا ان دونوں کے بجٹ کو آپس میں ملایا نہ جائے۔ مزید برآں وزارت خزانہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ مالی سال 2018-19ءکے لئے مختص شدہ بجٹ برائے وزیراعطم آفس تقریباً ایک ارب 11 کروڑ روپے تھا۔ وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کی وجہ سے وزیراعطم آفس نے صرف 75 کروڑ روپے کے اخراجات کر کے موجودہ مالی سال میں 32 فیصد اخراجات کی بچت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کا نئے مالی سال برائے 2019-20ءکا بجٹ 86 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں وزیراعظم آفس کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019-20ءکا بجٹ سابقہ مالی سال 2014-15ءکے بجٹ سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اور کابینہ کی تمام صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کرتے ہوئے وزیراعظم آفس سے سب سے پہلے 6 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈزختم کئے۔ اگلے مالی سال کے لئے وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کو 480 ارب روپے سے کم کر کے 431 ارب روپے پر مختص کیا گیا ہے۔ ایک اور غیر معمولی مثال فوجی بجٹ کو گزشتہ سال کے بجٹ پر منجمند کرنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات کا براہ راست وزیراعظم کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اپنی ذات سے متعلقہ اخراجات وزیراعظم خود برداشت کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایکسپریس ٹریبیون نے خبر دی تھی جس میں‌ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے. اس خبر پر وزارت خزانہ کی طرف سے یہ وضاحت جاری کی گئی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.