fbpx

عمران خان فائرنگ کیس؛ ایک ملزم پولیس کے حوالے، 3 جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان فائرنگ کیس کے ایک ملزم کو مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے جب کہ 3 کو جیل بھجوادیا ہے۔ گوجرانوالہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج رانا زاہد اقبال نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے متعلق کیس پر سماعت کی۔

پولیس نے انتہائی سخت سیکیورٹی میں مدثر نذیر ، احسن نذیر، طیب اور وقاص کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔ عدالت نے ملزم احسن، وقاص اور طیب کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جب کہ مدثر نذیر کو مزید 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

عدالت میں پیش کئے گئے ملزم احسن نذیر پر الزام ہے کہ اس نے واقعے کے روز فیس بک پر پوسٹ کی تھی جس میں اس نے لکھا تھا کہ آج کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ ملزم مدثر نذیر کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور وہ پارٹی کے ضلعی سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر تعینات ہے۔ مدثر نذیر کو احسن کا بھائی ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت کے روبرو پیش کیا ملزم وقاص مرکزی ملزم نوید کا دوست ہے، اور اس پر الزام ہے کہ ان سے ملزم طیب بٹ سے اسلحہ خرید کر نوید کو دیا تھا ، اسی اسلحے سے نوید نے عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کی تھی۔ ملزم طیب بٹ پر اسلحے کی ناجائز خرید و فروخت اور فائرنگ کی سازش میں شامل ہونے کا الزام ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

گزشتہ برس (3 نومبر 2022) کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنما اور کارکن زخمی ہوگئے تھے۔ عمران خان نے واقعے کا الزام وزیر اعظم شہباز شریف ، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور آئی ایس آئی کے حاضر سروس فوجی افسر پر الزام لگایا تھا۔