عمران خان کی ممکنہ گرفتاری،زمان پارک کے باہر پولیس پر کارکنان کا پتھراؤ

0
13
police

عمران خان کو گرفتار کرنے پہنچے ہیں،،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا،پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی گئی،کارکنوں کے پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار معمولی زخمی ہو گئے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے زخمی ہو گئے ہیں ، تا ہم ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی بالکل خیریت سے ہیں۔پنجاب پولیس اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی مکمل معاونت کررہی ہے۔عدالتی احکامات میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، زمان پارک میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے،

پولیس زمان پارک کے مرکزی گیٹ پر پہنچ گئی ،پولیس کی جانب سے عمران خان کی رہائش گاہ پر شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے ،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کیا جائے گا،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس نے زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون پر عملدرآمد کے لیے آئے ہیں، امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کیا جائیگا،عوام قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کارروائی ہوگی ،دوسری جانب زمان پارک جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں ،اسلام آباد اور لاہور کی پولیس گرفتاری کے لیے زمان پارک کے باہر موجود ہے، پولیس پلے کارڈز کی صورت میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر زمان پارک پہنچی ہے

ڈی آئی جی اسلام آباد نے حسان نیازی کو عدالتی احکامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ عدالت نےعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں، حسان نیازی نے کہا کہ عمران خان رہائشگاہ پر موجود نہیں ہیں،زمان پارک میں کارکنان سے کوئی زبردستی کی گئی تو تصادم کا خطرہ ہے، ہم نے وارنٹس کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، ہمیں وقت دیں، ہم پیش ہو جائیں گے،

تحریک انصاف کے ڈنڈا بردار کارکنان زمان پارک کے باہر موجود ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ہے،پولیس کی جانب سے زمان پارک کی جانب پیش قدمی کی گئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا،جس کے بعد پولیس کی جانب سے زمان پارک میں واٹر کینن طلب کر لی گئی ہیں،پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار اور غلیل سے لیس کارکنوں کے پتھراﺅ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گیا، جس کو طبی امداد دی جارہی ہے، پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا ہ،

تحریک انصاف کے رہنما زمان پارک میں عمران خان کی رہائشگاہ پر موجود ہیں،عمران خان کی بہن علیمہ خان کہتی ہیں کہ عمران خان کارکنان کی آواز ہیں انکی ہرصورت حفاظت کرنی ہے شہادت سے کون ڈرتا ہے ہم جان دینے کے لیے تیار ہیں،ہمیں اور پاکستان کو عمران خان کی ضرورت ہے، فوج اور پولیس والے ہمارے محافظ، ہمیں نہیں ماریں گے، رانا ثناء اللہ پر بھی مقدمات ہیں، اسے کوئی گرفتار نہیں کر رہا، عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ اس نے الیکشن کا مطالبہ کیا ہے، عمران خان ہماری آواز ہے، ہم نے اسکا تحفظ کرنا ہے،

سی سی پی اولاہوربلال کمیانہ کا کہنا ہے کہ زمان پارک پہنچنے والی پولیس غیر مسلح ہے زمان پارک پہنچنے والی پولیس کے پاس اسلحہ نہیں ہے اینٹی رائٹس پولیس کے پاس صرف ڈنڈے ہوتے ہیں ، تھریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انکے کارکنان کو گرفتار کیا ہے

تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ پولیس نے زمان پارک کو جانے والے تمام راستے بند کردئیے ہیں،عوامی لیڈر کو اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں ،ہم نے پہلے بھی ایک نوٹس کو چیلنج کیا ہے اس نوٹس کو بھی عدالت میں چیلنج کررہے ہیں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے،ہم ایسی صورتحال میں انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہتے ،پولیس کی جانب سے زمان پارک پر حملہ کیا گیا ہے پولیس آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں چلا رہی ہے، واٹر کینن کا استعمال اور نہتے کارکنان پر بدترین تشدد کیا جارہا ہے، عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق درخواستیں ہائیکورٹ میں پڑی ہیں،عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق درخواستیں ہائیکورٹ میں پڑی ہیں، عمران خان نے 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا تھا،پولیس آج وارنٹ پر عملدرآمد کروانے آ گئی ،یہ وارنٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہو چکا، معطل ہوجائے گا،

اسلام آباد پولیس کی زمان پارک آمد ،پی ٹی آئی کارکنوں نے کینال روڈ پر دھرنا دے دیا، پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک پولیس واپس نہیں جاتی ہم یہاں بیٹھے رہیں گے،

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا دفاع کر رہے ہیں،چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا دفاع کریں گے، قا نون پر عمل کرنے کیلئے ہم درمیانی راستہ نکالتے ہیں پولیس کو کہا ہے کہ جو بات کرنی ہے مجھ سے کریں،کیا یہ لوگ ملک میں افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں؟تحریک انصاف کوئی خون خرابہ نہیں چاہتی ،ہم باہمی مشاورت سے ایک راستہ نکالنے کیلئے تیارہیں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کااستعمال بلا جواز، فل الفور بند کیا جائے،کل کی ریلی اور مینار پاکستان جلسے کے اعلان کے بعد حکومت حواس باختہ ہوگئی ہے، ہم نے عدالتوں کا سہارا لیا ہے ، ہمارے امیدوار حلقوں میں کاغذات جمع کروانے کیلئے گئے ہیں ،مجھے قانونی طور پر قائل کر دیں،مجھے وارنٹ دکھائیں میں عمران خان سے بات کرتا ہوں، ہوسکتا ہے عمران خان از خود گرفتاری دے دیں، میں سیاستدان ہوں کوئی معقول راستہ نکالوں گا، مجھے وارنٹ دکھائیں میں پڑھوں گا اور عمران خان سے بات کروں گا،

تحریک انصاف کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ ایچیسن کالج اور زمان پارک کے بیرئیر کے پاس پولیس کی نفری واٹر کینن اور آنسو گیس کے ساتھ پہنچ گئی ہے تمام کارکنان جلد از جلد زمان پارک پہنچیں

تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان بھرپور احتجاج اور قومی شاہراہوں کو فوری طور بند کرے، کوئٹہ چمن شاہراہ کچلاک یارو قلعہ عبداللہ اور کوژک درہ کے مقام پر، کوئٹہ شاہراہ قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے مقام پر بند کر دیں۔

ممکنہ گرفتاری سیکرٹری جنرل سندھ نے سندھ بھر میں احتجاج کی کال دے دی عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کیخلاف کراچی میں احتجاج شروع ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کارکنوں نے حیدری کے قریب شاہراہ عثمان کوبلاک کردیا، تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لوگ جہاں بھی ہیں چوک اور چوراہوں میں اکٹھے ہوں اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کیلئے پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں، تحریک انصاف کی تنظیمیں اس احتجاج کو پرامن بنانے میں کردار ادا کریں.

عمران خان کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں، عمران خان زمان پارک میں ہیں، گزشتہ روز عمران خان نے ریلی نکالی تا ہم عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے،عمران خان وزیرآباد حملے کے بعد سے اب تک زمان پارک لاہور اپنی رہائشگاہ پر موجود تھے، عمران خان کی رہائشگاہ کی اطراف سیکورٹی بیریئر لگائے گئے تھے ، تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت کا قیام عمل میں‌ آیا، اس دوران زمان پارک سے ہر تیسرے روز عمران خان کی متوقع گرفتاری کا شوشہ چھوڑا جاتا اور کارکنان کو زمان پارک بلا لیا جاتا ، کارکنان زمان پارک عمران خان کی رہائشگاہ کے اطراف میں جمع رہتے ہیں، آج بھی عمران خان کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر کارکنان کو زمان پارک بلایا گیا ہے،

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری بھی سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے لیے لاہور میں موجود ہیں ، انہوں نے لاہور پولیس کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس کیا جس میں عمران خان کی گرفتاری کے بارے میں مشاورت کی گئی، پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان کی فہرستیں بھی تیار کر لی گئی ہیں، پولیس حکام کے مطابق گرفتاری کے دوران اگر کوئی رکاوٹ بنا تو سختی سے نمٹا جائے گا،

قبل ازیں عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کے باہر بکتر بند گاڑی پہنچ گئی ،پی ٹی آئی رہنماؤں نے پولیس سے استفسار کیا کہ بکتر بند گاڑی کیوں آئی ہے؟ پولیس حکام نے جواب دیا کہ بکتر بند گاڑی عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے آئی ہے، بکتر بند گاڑی عمران خان کی گرفتاری کے لیے نہیں آئی،

دوسری جانب فواد چودھری نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کر دئیے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کردئیے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر کچھ دیر بعد سماعت کا امکان ہے،

عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیئے گئے،دائر درخواست میں سیشن عدالت کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے بائیو میٹرک نہیں کروایا،

اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

Leave a reply