خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

0
42
imran in court lhr

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکلاء نے عدالت میں قابل ضمانت وارنٹ بحال رکھنے کی استدعا کر دی ،وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات ہیں جان کو خطرہ ہے ان سے سکیورٹی واپس لینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش نہیں ہوا ان کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں .عمران خان کے وکیل نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہا ہوں، جج ملک امان نے کہا کہ آپ بیشک چلے جائیں آپ کے دلائل تو آ گئے ، عدالت نے کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا۔

عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہوئی،پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی سول جج ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ حاضرنہ ہونے سے متعلق ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں،
عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے،عمران خان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، سول جج ملک امان نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنا دیا گیا، خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے عمران خان کو 18 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،

دوسری جانب عمران خان کو آج اسلام آباد کچہری میں دو مختلف عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے خاتون جج دھمکی کیس میں سول جج رانا مجاہد رحیم نے عمران خان کو طلب کر رکھا ہے جبکہ لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں عمران خان کو سول جج مبشر حسن چشتی نے طلب کر رکھا ہے

عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

 نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا

Leave a reply