fbpx

عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔

افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔