سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

0
164
imran

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کی التواء کی درخواست مسترد کر دی

عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اس کیس میں مقرر کیا گیا ہے، تیاری کے لیے وقت چاہیے،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر واضح کیا تھا کہ اس میں التواء نہیں ملے گا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ابھی اس کیس کی پیپر بُکس بھی تیار نہیں، کیس ایک بار شروع ہو گیا تو غیر ضروری التواء نہیں مانگا جائے گا، مجھے پہلے اس کیس کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ابھی تو اپیل کنندہ کے وکیل دلائل کا آغاز کر رہے ہیں، کونسا یہ دلائل ایک دن میں ختم ہو جائیں گے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیئے،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر لگائے گئے الزامات عدالت میں پڑھے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 24 سال سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی کو اکتوبر 2022 میں پہلی بار ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیا،سائفر کی آمد اور غلط استعمال سے متعلق انکوائری کی گئی، 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ کو سازش قرار دینے کا الزام عائد کیا گیا، مقدمہ میں لکھا گیا کہ سائفر سکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا گیا، سائفر کیس میں 25 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے، سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بھی گواہ بنایا گیا، اس ایف آئی آر میں چار ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں اعظم خان بھی شامل ہے، اسد عمر اور اعظم خان دونوں نے ضمانت کی درخواست دی اور بعد میں واپس لے لی، اعظم خان جیسے ہی 161 کا بیان دیتا ہے اسی دن مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کروا لیا جاتا ہے، وعدہ معاف گواہ بھی نہیں کہا جا سکتا،

ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ شریکِ ملزم نے پراسکیوشن کی فیور میں بیان دیا ، اعظم خان کا نام چالان میں ملزم کے طور پر لکھا گیا یا نہیں ، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جب ملزم بیان دے دیتا ہے تو اس کو ریلیف دے دیا جاتا ہے ،ایف آئی آر میں چار اور چالان میں صرف دو لوگوں کا نام ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا 164 کے تقاضے پورے کیے گئے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں پورے نہیں ہوئے، اسد عمر اور اعظم خان کو خانوں میں بھی نہیں ڈالا گیا، ایف آئی آر کہتی ہے اعظم خان ملزم ہے چالان کہتا ہے وہ گواہ ہے، کسی ملزم کو وعدہ معاف گواہ بنانے کا قانون میں ایک طریقہ کار طے ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان پر جرح ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نے نہیں کی، ڈیفنس کونسل حضرت یونس نے کی، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، یہ سوال نہیں کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ڈیفنس کونسل مقرر کیا جاتا ہے تو اس نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا اسٹیٹ کونسل نے تمام حقائق جانتے ہوئے بھی اس متعلق سوال نہیں کیا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ڈیفنس کونسل نے 48 گھنٹوں میں 21 گواہوں پر جرح مکمل کی، کرمنل کیسز میں شکایت کنندگان اہم ہوتے ہیں ، جب گواہان پر بحث ہونی تھی تو کم وقت دیا گیا ، ایک دن اسکندر ذوالقرنین عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، عدالت نے حق دفاع ختم کردیا ، جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے سب سے پہلے اس کی سٹوری آتی ہے ، اس کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ دیکھا گیا اور لفظوں کو مدنظر رکھ کر کیس بنایا گیا ، اس قانون کو پڑھ کر اس قانون کے لفظوں کا غلط استعمال کیا گیا ،

عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

 بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

Leave a reply