سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

0
179
Imran Khan Cypher

عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،عمران خان کی بہن علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھیں،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ہم اعتراضات سے متعلق آرڈر کا انتظار کر رہے تھے،عدالت نے کہا کہ اپیل کے قابل سماعت ہونے اور میرٹ پر فیصلہ ایک ساتھ کریں گے، آج سے اپیل کے میرٹ پر دلائل سنیں گے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کیس میں عائد تمام الزامات پڑھ کر سنائے،

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ الزام ہے سائفر کو ٹوئسٹ کیا اور اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو ہدایات جاری کیں، الزام ہے کہ ہدایات میں میٹنگ منٹس کو ٹوئسٹ کرنے کا کہا گیا، اس الزام میں اعظم خان کا ایک کردار بتایا گیا ہے، الزام لگایا گیا کہ غیرقانونی طور پرسائفر ٹیلی گرام اپنے پاس رکھا، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ سائفر سیکیورٹی سسٹم بھی کمپرومائز کیا گیا، الزام ہے کہ سائفر کے متن کو پبلک کرنے کا بھی کہا گیا، الزام ہے 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ میں سازش تیار کی گئی، اعظم خان لاپتہ رہے اور واپس آکر ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرایا، اعظم خان نے اسی روز مجسٹریٹ کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کرا دیا، وہ غائب رہنے کے بعد واپس آئے تو بغیر ضمانت لیے ایف آئی اے کے پاس گئے اور تفتیش جوائن کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر میٹنگ کے منٹس تیار کیے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ "کیا کوئی دستاویز پیش کیا گیا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر عمل کیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ "نہیں۔۔ ایسا کوئی دستاویز نہیں جس میں یہ لکھا ہو، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ "‏اسی لیے لکھا گیا ہے کہ اعظم خان کا کردار بعد میں دیکھا جائے گا”۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ "اعظم خان اغواء اور مقدمہ درج ہونے کے اگلے روز منظرِعام پر آ گئے”۔”اعظم خان نے اپنا بیان قلمبند کرانے کیلئے درخواست جمع کرائی”۔”اسی دن اعظم خان کا تفتیشی اور مجسٹریٹ کے سامنے بیانات قلمبند بھی ہو گئے”۔”‏ٹرائل کورٹ سائفر کیس میں 8 دنوں میں 25 گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ان کیمرہ ٹرائل ہونا چاہئیے”۔‏پہلی بار 23 اکتوبر کو چارج فریم ہوا دوسری دفعہ 13 دسمبر کو چارج فریم ہوا،تیسری دفعہ چارج برقرار رہا کچھ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کاروائی کالعدم ہوئی ، 12 جنوری سے 30 جنوری تک ٹرائل کورٹ نے ٹرائل مکمل کر لیا ، ان 18 دنوں میں جج صاحب کو ہمارا کنڈکٹ ٹھیک نہیں لگا ،سائفر ٹیلی گرام کے متن میں ردوبدل کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے، گرفتاری کے بعد اسپیشل جج اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے چارہفتوں میں کیس نمٹانے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کیں، ٹرائل کورٹ نے 17 دنوں میں 25 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، 4 گواہوں پر وکلاء صفائی نے جرح کی، باقی 21 گواہوں پر عدالت کے مقرر کردہ وکیل صفائی نے 2 دنوں میں جرح کی

سائفر کیس کی سماعت میں بیرسٹر سلمان صفدر نے شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کے جلسے کی تقریر عدالت کے سامنے پڑھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس کا سر پیر ہی سمجھ نہیں آیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اِسی بیان کی بنیاد پر شاہ محمود قریشی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تقریر عدالت میں پڑھ کر سنائی،جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو سیاسی تقریر تھی،

1923 کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گورا جو قانون بنا گیا 1947 سے وہی چل رہے ہیں، گورا یہ تو نہیں کہہ کر گیا تھا کہ آپ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے، قوانین تو پارلیمنٹ نے بنانے ہیں نا عدالت نے تو نہیں بنانے، ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جس قانون کو ہم چھیڑتے ہیں اسکو خراب کر دیتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اُس سائفر میں کمیونیکیشن کیا ہے؟ واشنگٹن سے ایک شخص نے ایک چیز بھیجی وہ کیا ہے؟ اس شخص نے بتایا تو ہو گا نا کہ کیا چیز بھارت کے ہاتھ لگ گئی تو سیکیورٹی سسٹم متاثر ہو گا،کیا سائفر ٹرائل کورٹ کے جج کو دکھایا گیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں دکھایا،

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق کے بھی اہم سوالات
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کم از کم یہ تو بتا دیں کہ سائفر میں کمیونیکیشن تھی کیا؟ اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ جو سائفر بھیجا گیا وہ کلاسیفائیڈ تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص کو سزا دی گئی یہ معلوم تو ہو کہ دستاویز میں کمیونیکیشن کیا تھی، پتہ تو چلے کہ دستاویز میں لکھا کیا تھا جسے ٹویسٹ کیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہ اصل نہ ہی ٹویسٹ کیا گیا سائفر سامنے آیا،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،سماعت کل تک ملتوی کرنے پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیف جسٹس عامر فاروق کا شکریہ بھی ادا کیا.

عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

 بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

Leave a reply