fbpx

عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے گھر گھر معاشی تباہی کی داستانیں رقم ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ کھانے کو روٹی نہیں، پہننے کو کپڑا نہیں، سر پر چھت نہیں اور عمران خان کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں۔پرویزمشرف کے دور میں 50 فیصد عوام غربت کا شکار تھے اور آج عمران خان نے پھر حالات کو اسی نہج پر پہنچا دیا جہاں سے پی پی پی نے ملک کو نکالا تھا۔
عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے گھر گھر معاشی تباہی کی داستانیں رقم ہورہی ہیں۔گندم دستیاب مگر آٹا مہنگا، گنا موجود مگر چینی کی قیمتیں قابو سے باہر ۔۔ یہ عمران خان کی مافیا کی سرپرستی کے نتائج نہیں تو اور کیا ہیں؟
پی ٹی آئی کو بجٹ میں تنخواہ دار اور پنشنرز سمیت عام آدمی کے ریلیف کی کوئی فکر نہیں، ان کا ٹارگٹ صرف جی ڈی پی کے غلط ہندسے کو درست ثابت کرنا ہے،

بجٹ میں عام آدمی کے ریلیف کا معاملہ سبوتاژ کرنے کے لئے پی ٹی آئی حکومت نے جی ڈی پی کے غلط اعدادوشمار کا شوشہ چھوڑا ہے، اگر جی ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک میں نوجوانوں کو نوکریاں ملتی ہیں مگر عمران خان کی فوٹوشاپ جی ڈی پی اضافے نے برسرِ روزگار کو بیروزگار کردیا۔

عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں ہر پانچواں فرد یا تو نوکری سے محروم ہوا ہے یا اس کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی نے آج تک ایسا عوامی بجٹ نہیں بنایا کہ جس میں تنخواہ دار اور پنشنرز سمیت عام آدمی کو ریلیف ملا ہو۔

عمران خان نے کپاس کی قیمتیں گیارہ سالہ ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچا کر ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے بھی ایک نیا بحران پیدا کردیا ہے۔اگر پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو بچانا ہے تو عمران خان کی حکومت سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.