fbpx

عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

اس سال کے شروع میں جب عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو نیازی نے اسے بین الاقوامی سازش کہا اور امریکہ پر رجیم چینج کا الزام لگایا مگر اب اچانک اسرائیل سے لے کر اقوام متحدہ تک نیازی کی حمایت میں بول پڑے ہیں تو پاکستان میں لوگوں کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر دنیا کو ہوا کیا ہے اور اسرائیل سے لے کر انڈیا تک لوگ نیازی کی حمایت میں اتنے دیوانے کیوں ہو گئے اور اس کے پیچھے آخر کونسی لابی ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر راجہ عامر نے ایک تھریڈ لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آئیے اس کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہیں

پہلے ایک انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم پاکستان میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتی اور ایک ورکنگ گروپ بنانے کا دعوی کرتی مگر پھر واحد صاحب اسے مکمل ایکسوز کرتے اور بتاتے کہ اس کو چلانے والے انڈین ہیں ۔
انڈین کو آخر عمران سے اتنی کیا دلچسپی ؟
بات اتنی سادہ نہیں ہے 2020میں ای یو ڈس انفو لیب نے ایک بہت بڑا سکینڈل بے نقاب کیا تھا جسے Indian Chronicles کا نام دیا گیا تھا جو پندرہ سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور چائینہ کے خلاف اور انہیں بدنام کرنے کے لیے کام کر رہا تھا اگر اس نیٹ ورک کا لب لباب یہ ہے کہ پندرہ سال یہ نیٹ ورک 10سے زیادہ اقوام متحدہ سے منظور شدہ این جی اوز،119سے زیادہ ممالک میں 750 جعلی نیوز آوٹ لیٹ ،اور500سے زیادہ ویب ڈومین رکھتا تھا ان کا بنیادی مشن پاکستان اور چائینہ کو Discreditکرنا انڈیا کی عالمی طاقت کو مضبوط کرنا اور انسانی حقوق کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا تھا .آپ کڑیاں ساتھ ساتھ ملاتے جائیں آپ کو یاد ہے امریکہ اور انڈیا نے مل کر سی پیک بارے متفقہ لائحہ عمل بنانے کا اعلان کیا تھا ؟

اس سارے آپریشن کو Srivastava گروپ چلا رہا تھا انہوں نے این جی او ،تھنک ٹینک ،جعلی اخبارات ،اقوام متحدہ کے باہر مظاہرے ، یورپی پارلیمان کے ناموں پر جعلی ادارے اور ایک لمبا چکر بنایا ہوا تھا ،مثال کے طور پر Prof. Louis B. Sohnجو انسانی حقوق کا ایک بڑا نام اور 2006میں فوت ہو چکے تھے ان کا نام استعمال کیا آپ یہ جعلی رپوٹ چیک کیجئے جو انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان نے لکھی جس میں 2011میں وہ پروفیسر خطاب کر رہے جو پانچ سال قبل فوت ہو چکا تھا ،اسی طرح انہوں نے یوروپین پارلیمان کے سابق صدر جو سیاست سے ریٹارڈ ہو چکا تھا اس کے نام سے ایک جعلی این جی او بنائی جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں ہونے والے سیاسی واقعات کی مذمت کر رہی ہے ابھی بھی اقوام متحدہ میں ایک پلانٹڈ سوال عمران نیازی بارے ہوا آپ کو کنکشن سمجھ آیا؟

پاکستان میں یہ کام پی ٹی آئی نے شروع کیا تھا فرحان ورک ڈاکٹر قدیر کے نام سے اکاونٹ چلاتا تھا پھر کبھی رانی مکر بن جاتا کبھی فرانس کے صدر کا اکاونٹ ایک دفعہ تو ایک رشین جرنلسٹ کا اکاونٹ اور ایک دفعہ تو ایک بلو ٹک اکاونٹ تک خرید کر استعمال کرتا رہا انڈین نیٹ ورک دنیا بھر میں جعلی اخبارات کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی چلاتا تھا آپ دنیا کے کسی بڑے ملک اور اس سے ملتے جلتے نام سے اخبار ڈھونڈیں آپ کو وہ مل جائیں گے یوں وہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو ان خبروں سے influence کرتے تھے اگر آپ غور کریں تو پاکستان میں پی ٹی آئی اسی ماڈل پر کام کرتی ہے انہوں نے بھی جعلی اخبارات جیسے خلیج میگ جو فیصل آباد سے چلتا مگر اسے خلیج ٹائم سے جوڑ دیا اور اکثر نیوز چینل اس کی خبریں شئیر کرتے رہے سب سے مزے کی بات یہ کہ جب جب ای یو ڈس انفو لیب نے بہت محنت اور تحقیق سے یہ سب بے نقاب کیا توعمران خان نے اس سارے کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کو دے دیا کیا آپ نے ایسا وارداتییہ کبھی دیکھا ہے

پی ٹی آئی نے لندن میں یہودی فرم ہائر کی ، امریکہ میں لابی فرم اور پھر انڈین لابی کی مدد سے اور خود پی ٹی آئی کے لا تعداد جعلی پیجز اور ٹویٹ سے بالکل انڈین chronicle کی طرز پر human rights کو ایک ہتھیار بناتے مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کو influence کرنے کی کوشش کی ہے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور یورپی پارلیمان پہلے بھی انڈین فیک نیٹ ورک سے متاثر ہو چکے اور کافی شرمندگی بھی اٹھا چکے کہ پندرہ سال ایک جعلی نیٹ ورک کے زیر اثر بیانات دیتے رہے اب پھر پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے وہ انڈیا جو پندرہ سال اتنا پیچیدہ نیٹ ورک صرف پاکستان اور چائینہ کے مفادات کے خلاف چلاتا رہا وہ تحریک انصاف کو وہ ساری ایکسپرٹی اور سپورٹ اسی لیے دے رہا کہ پاکستان میں عدم استحکام رہے پاکستان کا انٹرنیشنل امیج خراب رہے پاکستان سی پیک روک دے اور یہ ڈی فالٹ کر جائے ،متعدد بار عمران کی آن لائن طاقت کے پیچھے انڈین عناصر ثابت ہو چکے اس لیے اس بین القوامی سپورٹ کی حقیقت کو سمجھیں

عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

 تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا،