عمران خان کو سلیکٹ کرنے والے بھی پریشان ہیں‌ کہ ہم کس نالائق کو لے آئے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ عمران خان تو چار حلقوں‌ کا رونا روتے تھے، 2018 کے الیکشن میں فارم 45 ملک بھر سے غائب ہے، میں پوچھتا ہوں عمران خان کیلیے یہ سب کیوں کیاجارہاہے،اداروں کومتنازع کیوں بنایاجارہا ہے ،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے لوئر دیر میں بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ تو کہتا تھا کہ جب میں اس ملک کا وزیر اعظم بنوں گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا. لو گ مجھ ایماندار کو اتنا پیسہ دیں گے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اس وقت اتنا کم ٹیکس اکٹھاہواہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور اب اس کمی کوپورا کرنے کیلئے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے ، یہ اے این ایف ایوارڈ پر ڈاکہ ڈال کر صوبوں کاحق چھیننا چاہتے ہیں، وہ آئین جس کے لئے ذوالفقار علی بھٹونے پھانسی اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہاد ت قبول کی یہ اس کوتبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن عمران خان سن لے کے شہیدوں کے خون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،

بلاول بھٹو نے کہاکہ میری پارٹی اور خاندان کوجیل بھیج دو لیکن اصولوں پر سمجھوتہ ہوسکتا ، اٹھارویں ترمیم اورجمہوریت پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ بلاول نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی زرعی اصلاعات کی گئیں ، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان سے نوابی نظام ختم کیا جو کبھی زمین کے مالک نہیں بن سکتے تھے ، ان کو زمین دی ، اس ملک کو آئین دیا ،ایٹمی طاقت بنایا ، لوگوں کوحقوق دیئے اور جینے کا شعور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں جو بھی ترقیاتی کام آپ کو نظر آئے گا تو وہ پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہوگا ۔

انہوں‌نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خان صاحب سن لو ، اٹھارویں ترمیم اور جمہوریت پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، عمران خان انصاف کی بات کرتے تھے ، آج انتقام کی سیاست کررہے ہیں،عوام کے دلوں میں وہی زندہ رہ سکتاہے جس نے عوام کومانا ہو، ضیاءالحق اور مشرف کا آج کوئی نام لینے والانہیں ہے ۔

انہوں‌ نے کہا کہ آج بھی ہمارا مقابلہ جمہوریت کے لبادے میں چھپے ہوئے سلیکٹڈ وزیر اعظم سے ہے ، عمران خان حالات کواس نہج پر لے آئے ہیں کہ لوگ اس کے اقتدار کے پہلے ہی سال اس کے جانے کی دعا کررہے ہیں ، سب پریشان ہیں بلکہ اس کو سلیکٹ کرنے والے بھی پریشان ہیں کہ ہم نے کس نالائق کوسلیکٹ کیاہے ۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومت اٹھارویں ترامیم ختم اور این ایف سی ایوارڈ کو کم کرنا چاہتی ہے لیکن اگر میرے پورے خاندان کو بھی جیل میں ڈال دیں تو پھر بھی جمہوری نظام پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے عوام کے دلوں میں وہی زندہ رہتا ہے جس نے عوام کے حقوق کے لیے قربانی دی ہو۔ دوسری طرف عوام کے حقوق چھیننے والوں کا نام لینے والا کوئی نہیں، آج بھی ہمارا مقابلہ جمہوریت کے لبادے میں چھپی آمریت سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین دیا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، بھٹو نے زرعی اصلاحات کرکے لوگوں کو روزگار دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.