عمران خان لکی وزیراعظم،ایک سال میں کامیابیاں ہی کامیابیاں،اپوزیشن ملکر کچھ نہ بگاڑ سکی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا

عمران حکومت کو حکومت مخالف تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا ،متحدہ اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ تحریک عدم اعتماد پر منہ کی کھانی پڑی ،عمران خان کی حکومت نے احتساب کے نعرے پر عملدرآمد کیا ،2 سابق وزرائے اعظم نوازشریف، شاہد خاقان کو جیل بھیجا گیا ،سابق صدرزرداری سمیت کئی اہم سیاسی رہنماؤں کوبھی جیل جانا پڑا.

تحریک انصاف کی ایک سالہ حکومت میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب، ترکی، چین، ایران،امریکہ سمیت کئی ممالک کے دورے کئے ،سعودی ولی عہد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا، امیر قطر بھی پاکستان کے دورے پر آئے، سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو امداد دی،

حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کئے، اور قرضہ لیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،وفاقی کابینہ میں بھی دو بار تبدیلیاں کی گئیں، اسد عمر نے وزارت خزانہ سے استعفیٰ دیا تو ان کی جگہ عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ لگا دیا گیا، فواد چوھدری سے اطلاعات کی وزارت واپس لے کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی دے دی گئی. فردوس عاشق اعوان کو مشیر برائے اطلاعات بنایا گیا.

حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان ملین مارچ اور جلسے کرتے رہے لیکن وہ حکومت کے خلاف کچھ کر گزرنے میں ناکام ہوئے، چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں بھی اپوزیشن جماعتوں کو ووٹوں کی اکثریت ہونے کے باوجود ناکامی ہوئی.

سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمیشرہ کو منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے گرفتار کیا، ن لیگی رہنما بھی جیل میں ہیں ، رانا ثناء اللہ کو بھی منشیات کیس میں گرفتار کیا گیا.

تحریک انصاف کی حکومت میں ہی بھارت نے فروری میں پلوامہ کا ڈرامہ رچانے کے بعد پاکستان کے بالا کوٹ پر کاروائی کی جس میں وہ طیاروں کے پے رول پھینک کر فرار ہو گئے تا ہم اگلے روز پاک فوج نے بھارت کے دو طیارے گرائے اور بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کر لیا جسے بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر دیا گیا.

تحریک انصاف کی ایک سالہ حکومت کے دوران بھارت کنڑول لائن کی خلاف ورزیوں سے باز نہیں آیا، بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری سے سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا، دوسری جانب کشمیریوں پر بھی مظالم جاری رہے، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کیا ،امریکی‌صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تو مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، کشمیر میں دو ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے، پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے او آئی سی کا اجلاس کشمیرپرہوا، چین نے کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ،سلامتی کونسل کا بھی کشمیر پر خصوصی اجلاس ہوا.

تحریک انصاف کی حکومت میں سول و عسکری قیادت ایک پیج پر نظر آئی،

دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کے باعث ملک میں مہنگائی ہوئی، حکومت ایک سال میں عوام کو ریلیف نہ دے سکی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا، اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امن و امان کی صورتحال مجموعی طور پر بہتر رہی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.