ریکوڈک کیس میں جرمانہ کیوں‌ ہوا؟ عمران خان نے ذمہ داران کے تعین کیلئے انتہائی اہم قدم اٹھا لیا

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ریکوڈک کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے کمیشن بنانے کی ہدایت کی ہے. یہ کمیشن اس امر کی تحقیقات کرے گا کہ عالمی ادارے کی طرف سے جرمانہ کئے جانے کی یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی، اسی طرح یہ کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا بھی تعین کرے گا.

پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق حکومت پاکستان نے ریکوڈک منصوبے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا ہے پاکستان خلاف عالمی ادارہ برائے سیٹلمنٹ سرمایا کاری تنازعات کے فیصلے ‏کو چیلنج کرے گا. ‏پاکستان کو ریکوڈک ہرجانہ کیس میں کمپنی کو 5.976 ارب ڈالرز کا جرمانہ ہوا ہے، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں‌ کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت نے کئی سو صفحات پر مشتمل فیصلہ جمعہ کے روز سنایا، اٹارنی جنرل آفس اور صوبائی حکومت بلوچستان فیصلے کے قانونی اورمالی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں حکومت پاکستان مشاورت سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

بریکنگ:اگلے تین گھنٹوں میں پاکستان کو 4 ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے.

عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل کا فیصلہ حکومت پاکستان کو بھجوایا گیا ہے۔ ‏ڈاکٹر ثمر مبارک مند ٹریبونل میں حکومت پاکستان کے ماہر کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ ‏ڈاکٹر ثمرمبارک نے گواہی دی کہ ریکوڈک سے مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر ملیں گے۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ‏ڈاکٹرثمرمبارک نے گواہی دی کہ ریکوڈک سے اڑھائی ارب ڈالر سالانہ سونا برآمد ہو گا۔ ‏پاکستان عالمی بینک کے ٹربیونل کے ہرجانے کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔

ریکوڈک منصوبے پر عالمی ادارے کے فیصلے کو چیلنج کریں گے پاکستان کا ردعمل

اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام قانونی آپشنز استعمال کرنے کاحق رکھتی ہے تاہم حکومت پاکستان ٹی ٹی سی کمپنی کی جانب سے معاملے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے بیان خوش آئند قراردیتی ہے اور تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق پاکستان فیصلے کیخلاف ثالثی ٹریبونل کے سامنے ہی نظرثانی درخواست دائر کرے گا، پاکستان کی نظرثانی درخواست پر فیصلے میں 2 سے 3 سال لگیں گے۔ یاد رہے کہ ٹیتھیان کمپنی نے پاکستان سے 16 ارب ڈالر ہرجانے کا دعو یٰ کیا تھا۔ ‏ٹیتھیان کمپنی کو سونے، تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا، ‏سپریم کورٹ نے 2011ء میں ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا تھا، ‏ٹیتھیان کمپنی نےعدالتی فیصلے کے خلاف عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.