fbpx

توہین عدالت کیس،عمران خان نے حکومتی جواب پر جواب الجواب جمع کروا دیا

سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ،عمران خان نے حکومتی جواب پر جواب الجواب جمع کروا دیا

عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ میرے جواب اور دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ جیمرز کی دستاویزات جمع کروانے کی اجازت چاہتا ہوں،بابر اعوان اور فیصل چودھری جواب میں مجھے اطلاع کرنے سے متعلق معذوری ظاہر کرچکے ہیں کیس میں واحد نقطہ یہی ہے کیا مجھے عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا یا نہیں،عدالتی احکامات کی انتظامیہ نے واضح طور پر خلاف ورزی کی 24مئی سے کارکنان پنجاب اور اسلام آباد میں تشدد کی وجہ سے دباو میں تھے،جیمرز کی وجہ سے رابطہ نہ ہونے کا ابھی تک دعویٰ نہیں کیا،پہلے جواب میں جیمرز کی موجودگی میں رابطہ کے عمل کو غیر حقیقی لکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی سے سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا،سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جگہوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں،مجھے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے میرے اور سپورٹرز کے اجتماع کے آئینی حق کو تسلیم کرلیا،ڈی چوک جانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجے میں کیا تھا،ڈی چوک جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے کر چکا تھا،

شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں