عمران خان نے خود کے دوبارہ گرفتار ہونے کا دعویٰ کردیا

0
45
پی ٹی آئی چیئرمین

عمران خان نے خود کے دوبارہ گرفتار ہونے کا دعویٰ کردیا ہے.
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مجھے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تو ملک میں تشدد نہیں چاہتا لیکن پی ڈی ایم لوگوں کو مشتعل کروا کر احتجاج کرنا چاہتی ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں مجھے روکنے کے لیے اسے استعمال کیا جا سکے، ہم دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتیں گے۔


ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کے چیئر مین نے الجزیرہ ، امریکی میڈیا سی این این کو انٹرویو اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کیا۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ ہماری پوری قیادت جیل میں ہے اور اس بات کے 80 فیصد امکانات ہیں کہ منگل کو جب میں اسلام آباد جاؤں گا تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔

عرب میڈیا الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض کٹھ پتلی ہیں، پولیس نے ہمارے 7500 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے، میں اپنے کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر پر امن رہنے کی ہدایت کرتا ہوں، میری پارٹی کی پوری اعلیٰ قیادت گرفتار ہے، مجھ پر تقریباً 150 مقدمات ہیں، اس لیے مجھے کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ آپ کسی ایسے خیال کو گرفتار نہیں کر سکتے جس کا وقت آ گیا ہے۔

ادھر دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما مولانا خان محمد شیرانی نے ملاقات کی ، اورملک بھر میں پی ٹی آئی اوراتحادیوں کیخلاف جبر وفسطائیت کے جاری بدترین سلسلے کی شدید مذمت کی۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے لاہور میں ان رہائش گاہ زمان پارک پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے مولانا شیرانی کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، آئین و عدلیہ کیخلاف حکومتی یلغار اور جمہوریت و جمہوری اقدار کے قتل عام پرگہری تشویش کا اظہارکیا۔ جبکہ ملاقات میں چیئرمین تحریک انصاف کے ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ذریعے اغوااور 9 مئی کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کو پرتشدد بنانے اور جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ نہتّے پاکستانیوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کی بھی شدید مذمت کی گئی ۔

عمران خان اور مولانا شیرانی کی ملاقات میں تحریک انصاف کیخلاف ملک بھرمیں جاری غیرقانونی کریک ڈاؤن کو فوری طورپرروکنےکا مطالبہ کرتے ہوئے 25 نہتے پاکستانیوں کو شہید 700 سے زائد کو زخمی کرنے والوں کو کٹہرے میں لانے کیلئے جامع تحقیقات کی ضرورت پر زوردیا گیا۔ ملاقات میں تحریک انصاف کی قیادت، کارکنان خصوصاً خواتین کو فوری طور پر رہا کرنے ، بغیر تحقیق و قانونی جوازچھاپوں، توڑ پھوڑاورخواتین اوربچوں کو ہراساں کئے جانے پر شدید ناگواری اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے آئین سے کھلے انحراف اور ریاستی طاقت کے بل پر سیاست میں مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ جمہوریت پرحملہ قراردیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
ملاقات میں میڈیا و آزاد اہلِ صحافت کیخلاف بدترین انتقامی کارروائیوں اور قومی وسائل کے بَل پر جھوٹے اور نفرت انگیز پراپیگنڈے کی شدید مذمت کی گئی ، اورعدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے آئین، بنیادی حقوق اور ریاستی جبر و فسطائیت سے شہریوں کو تحفظ فراہم کی استدعا گئی ۔ اس کے علاوہ ملاقات میں چیف جسٹس پاکستان سےپنجاب و پختونخوا میں غیرقانونی نگران حکومتوں کے خاتمے اورآئین کے تحت عام انتخابات کے ذریعے منتخب حکومتوں کے قیام کیلئے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد یقینی بنانے کی بھی استدعا کی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی اورمولانا خان محمد شیرانی کی ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف انصاف جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مابین سیاسی اشتراکِ عمل کو مزید وسعت و تحرُّک دینے پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا۔

Leave a reply