fbpx

عمران خان نے بائیڈن انتظامیہ سے پاکستان میں حکومتی تبدیلی پر وضاحت مانگ لی

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بائیڈن انتظامیہ سے پاکستان میں حکومتی تبدیلی پر وضاحت مانگ لی ہے۔

باغی ٹی وی : سابق وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ بیان میں بائیڈن انتظامیہ سے استفسار کیا ہے کہ کیا پاکستان میں منتخب وزیراعظم کو ہٹا کرکٹھ پتلی وزیراعظم مسلط کرکے آپ نے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو کم کیا یا بڑھاوا دیا ہے؟-

ایسے وزیراعظم کو لایا گیا جو امریکہ کی ساری باتیں مانے گا،عمران خان

چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت گرانے کی سازش کر کے اور ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹا کر 22 کروڑ عوام کے اوپر کٹھ پتلی وزیراعظم مسلط کر کے کیا آپ نے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو کم کیا یا انہیں بڑھاوا دیا ہے؟

سابق وزیراعظم نے پوچھا ہے کہ کیا امریکی اقدام سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو تقویت نہیں ملی؟


مزید ٹوئٹس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسا وزیراعظم جو امریکا کا فرمانبردار ہو وہ روس کے ساتھ معاہدے نہیں کرے گا اور چین سے ہمارے تزویراتی تعلقات میں بھی کمی لائے گا،لیکن اگر کوئی وزیر اعظم پاکستان کی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی بات کرے گا تو اسے ہٹا دیا جائےگا اور شہباز شریف جیسا فرمانبردار وزیر اعظم لایا جائے گا۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹواورترک ہم منصب کےدرمیان ٹیلیفونک رابطہ


حکومت کی تبدیلی کی اس امریکی سازش، جوواشنگٹن میں ہمارےسفیرکےامریکی محکمۂ خارجہ کےافسر”Lu“کی دھمکیوں پرمشتمل خفیہ مراسلے سےیکسرواضح تھی،کی تصدیق کےبعد یقیناً چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داری ہےکہ اس سازش میں کارفرماعناصرکی نشاندہی کیلئےکمیشن بنائیں اور کھلی سماعت کااہتمام کریں!


اس سے قبل عمران خان نے ٹوئٹر پر امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں خاتون تجزیہ کار پاکستان کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کررہی ہیں۔

سندھ کا اگلا گورنر کون ہو گا ، ایم کیو ایم نے تین نام دے دئیے

اینکر نے سوال کیا کہ ایٹمی طاقت اور بڑی فوج رکھنے والے پاکستان کو کیا پیغام دیں گی جب کہ امریکا بھی اس سے خوش نہیں ہے۔

اس پر خاتون تجزیہ کار نےکہا کہ ‘پاکستان کو یوکرین کی حمایت کرنا ہوگی، روس کے ساتھ معاہدے روکنا ہوں گے، چین کے ساتھ تعلقات کم کرنا ہوں گے اور امریکا مخالف پالیسیاں ختم کرنا ہوں گی جس کے باعث عمران خان کو ووٹ کے ذریعے اقتدار سے باہر کیا گیا، اب وقت ہےکہ پاکستان امریکا مخالف پالیسیاں ختم کرے۔

خاتون تجزیہ کارکی جانب سے دیئے گئے مشورے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو بھی حکومت کی تبدیلی میں امریکی سازش پر کوئی شبہ ہے تو ویڈیو سے اس کے تمام شبہات دور ہوجانے چاہئیں کہ کیوں ایک منتخب وزیراعظم اور اس کی حکومت کو ہٹایا گیا، واضح طور پر امریکا چاہتا ہےکہ پاکستان میں ایک کٹھ پتلی اور اس کا فرمانبردار وزیراعظم ہو جو یورپ کی جنگ میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کا انتخاب نہیں کرنے دے گا۔

ٹویٹر بھی تحریک انصاف کو جھٹکا دے دیا