ورلڈ ہیڈر ایڈ

عمران خان امریکا میں بھی ہمیں گالیاں دیتے رہے، مولانا کا آزادی مارچ میں شکوہ

عمران خان امریکا میں بھی ہمیں گالیاں دیتے رہے، مولانا کا آزادی مارچ میں شکوہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں، تمام سیاسی جماعتیوں کے رہنما ہر روز اپنا موقف کنٹینرز پر دیتے رہتے ہیں۔ آج اسمبلی میں جس طرح کی تقریریں کی گئیں لگتا نہیں کہ یہ مفاہمت چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر ہیں،حکومتی کمیٹی کو کہا آنا ہے تو ہمارے پاس استعفیٰ لے کرآوجعلی حکومت کی قانون سازی بھی جعلی ہوتی ہے،جعلی اسمبلیوں کی قرار دادووں کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ،اس حکومت کو ہم ایک قبضہ گروپ سمجھتے ہیں،ہم آئین ،قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، بیورو کریسی  کو بھی یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں،

آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

مذاکرات کرنے ہیں تو استعفیٰ لاؤ، استعفیٰ کا بھی مطالبہ اور اداروں کی منتیں بھی، مولانا کا خطاب

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ملک کوامن کاگہوارہ بنائیں گے،افواج پاکستان نےملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، دھاندلی سے آنے والوں کوحکومت نہیں کرنےدیں گے ،ایف بی آر نے کہامنی لانڈرنگ سے کوئی پیسہ باہر نہیں گیا،ہماری قربانیاں اس لیےتھیں کہ ایسےلوگ حکمرانی کریں؟عمران خان امریکہ میں بھی ہمیں گالیاں دیتےرہے،حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں،

آزادی مارچ، آخری فیصلہ مولانا کا نہیں بلکہ کس کا ہو گا؟ اکرم درانی کے انکشاف پر سب حیران

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں یو این اسمبلی اجلاس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جلسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود شرکت کی۔ حکومت والے کشمیر کو بیچ چکے ہیں۔

آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیوں؟ مولانا فضل الرحمان رو پڑے

ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں پشاور موڑ کے قریب جمع ہیں، حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مقام تک ہی محدود رہیں گے۔

آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

مولانا فضل الرحمان کو 9 روز اسلام آباد میں ہو گئے،الیکشن کمیشن آف پاکستان مولانا کو دھاندلی کے الزامات پر جواب دے چکا ہے، پاک فوج کے ترجمان بھی آزادی مارچ پر اپنا موقف سامنے لا چکے ہیں، حکومت کی طرف سے بھی درمیانی راستہ کی تلاش ہے اور اب حکومت سے زیادہ مولانا کو درمیانی راستہ کی تلاش ہے، بلاول اور ن لیگ نے مولانا کو بند گلی میں پھنسا دیا، اگر استعفیٰ کا مطالبہ سامنے رکھ کر مولانا چار برس بھی بیٹھے رہیں تو وہ عمران خان انہیں دینے کو تیار نہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.