fbpx

کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم

کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے ٹرائیکا پلس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان کی ملاقات ہوئی

وزیراعظم عمران خان نے ٹرائیکا پلس میکنزم کی اہمیت کو اجاگر کیا،وزیراعظم عمران خان نے خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،پاکستان نے ہمیشہ ایک جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کی،وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے احترام اور انسداد دہشت گردی کے پرعزم اقدامات کی اہمیت پر زور دیا .وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے

قبل ازیں چین، روس، امریکہ اور پاکستان کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اجلاس میں موجود تھے، افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور عالمی برادری سے افغان حکومت سے رابطے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ٹرائیکا پلس اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے ،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اعتدال پسند پالیسیوں کے نفاذ کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے،عالمی برادری افغانستان کو کورونا کیخلاف امداد کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کرے طالبان افغان عوام کے ساتھ مل کر نمائندہ حکومت کی تشکیل کیلئے اقدامات کریں ،عالمی بینک کی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے بارے میں رپورٹ بھی سامنے رکھی گئی، رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت، افغانستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک قرار دیئے گئے اور کہا گیا کہ 2 دہائیوں میں خشک سالی، سیلاب، طوفانوں سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے،2 دہائیوں میں ساؤتھ ایشیا ریجن کے 75 کروڑافراد موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ بڑھانے کی ضرورت ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کو مدعو کریں گے،جسے قائل کرنا ہے اسے میز پر لانا ہوگا۔پاکستان ذمہ دار ملک ہے،امن و استحکام میں دنیا کیلئے اور علاقائی فوائد ہیں،بگاڑ پیدا ہوا تو کوئی بھی بچ نہیں پائے گا

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’ٹرائیکا پلس‘ (تین سے زائد ممالک) کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ’ٹرائیکاپلَس‘ کے نویں اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آمد پر آپ سب کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ کی یہاں موجودگی ایک پرامن، مستحکم، متحد، خود مختار اور خوش حال افغانستان دیکھنے کی مشترکہ خواہش کی عکاس ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ آج آپ کی جانب سے غوروخوض کی کاوش، ثمربار ہو۔ ’ٹرائیکا پلَس‘ کا اجلاس تین ماہ کے وقفے سے دوبارہ ہورہا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان بنیادی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ کابل میں ایک نئی انتظامیہ فعال ہوئی ہے؛ عبوری کابینہ کی تشکیل ہوچکی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلاء ہوا ہے خوش کن پہلو یہ تھے کہ خوں ریزی نہیں ہوئی، مہاجرین کے بڑے پیمانے پر ہجرت کے جو خوفناک اندیشے لاحق تھے، ان خدشات سے محفوظ رہے ، مستقبل کے اقدام پر طالبان کی طرف سے حوصلہ افزا اعلانات ہوئے اور اہم ترین امر یہ ہے کہ عالمی برادری نے رابطہ استوار رکھا ہے۔ افغانستان کے ساتھ رابطہ نہ صرف بحال رہنا چاہئے بلکہ کئی وجوہات کی بناءپر اس میں اضافہ ہونا چاہئے۔ تاکہ پھر سے یہ ملک خانہ جنگی کی نذر نہ ہو، کوئی بھی دوبارہ ایسا ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا، معاشی انحاط وانہدام کا بھی کوئی خواہاں نہیں، جس سے عدم استحکام بڑھے گا ، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر فعال، والے دہشت گرد عناصر کو موثر انداز سے نمٹاجائے اور ہم سب کی خواہش ہے کہ مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے۔ افغانستان سے متعلق ہم سب کی تشویش وفکر مندی مشترک ہے جبکہ وہاں امن واستحکام ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ان سب کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ’ٹرائیکا پلَس‘ نے نمایاں اہمیت حاصل کرلی ہے اور اس کا کلیدی کردار ہے جو اسے ادا کرنا ہے۔ہم پُر اعتماد ہیں کہ ’ٹرائیکا پلَس‘ کے نئی افغان حکومت سے امور کار، امن واستحکام کے فروغ ، پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے لئے گنجائش مسدود ہوتی چلی جائے گی۔افغانستان اس وقت معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ عالمی مالی امداد کے نہ ہونے سے تنخواہوں کی ادائیگی تک میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، چہ جائیکہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت ممکن ہوسکے۔ عام آدمی بدترین قحط کے شدید اثرات کا شکار اور اس سے متاثر ہے۔ صورتحال میں مزید تنزلی نئی انتظامیہ کی حکومت چلانے کی استعداد کو بری طرح محدود کردے گی۔ لہذا ناگزیر ہے کہ عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تحرک کرے ۔ صحت، تعلیم اور شہری خدمات (میونسپل سروسز) کی فراہمی کو فوری توجہ درکار ہے۔ افغانستان کو اپنے مجمند وسائل کی رسائی سے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کی ہماری کوششوں کو تقویت ملے گی اور افغان معیشت استحکام اور پائیداری کی طرف گامزن ہوپائے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور اس کے اداروں پر زور دیا جائے کہ وہ عام افغان شہریوں تک رسائی کے طریقے تلاش کریں اور اس صورتحال میں ان کی مدد کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن واستحکام قریب ترین ہمسائے کے طورپر پاکستان کے براہ راست مفاد میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان مشترکہ ورثہ اور تاریخ رکھتے ہیں۔ ہم افغانستان کے ہر طبقہ و نسل کو ملک کی حتمی منزل کے لئے اہم تصور کرتے ہیں۔قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ہم نے گذشتہ چار دہائیوں میں، مہاجرین، منشیات اور دہشت گردی کی صورت میں اس تنازعے اور عدم استحکام کا براہ راست نقصان اٹھایا ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کو اس طویل تنازعے اور لڑائی کے خاتمے کا ایک موقع گردانتے ہیں۔ اس سمت میں ہم نے پہلے ہی متعدد اقدامات کئے ہیں تاکہ افغانستان میں عام آدمی کو سہولت ملے۔ ان میں سے چند یہ ہیں ،افغانستان میں کسانوں کی مدد کے لئے کھانے پینے کی اشیاءکو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی قرار دے دیا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ،پیدل آمدورفت کی سہولت دی گئی ہے ،ہم نے کورونا وبا کے دوران سرحد کو کھولے رکھا ،بیماروں اور علاج کے لئے آنے والوں کو ان کی آمد پر ویزا کی فراہمی کی سہولت دی گئی ہے ،15 اگست کے بعد سے میں نے مختلف ممالک کے اپنے متعدد ہم مناصب کی میزبانی کی۔ ہم افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل کی تجویز کی حمایت کی تاکہ تشویش کے مشترک نکات اور مواقعوں پر بات چیت ممکن ہوسکے۔ دو اجلاسوں سے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور مستقبل کی راہ عمل کی حامل دستاویزات میسرآئی ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ان تمام رابطوں کے دوران عالمی برادری اور نئی افغان حکومت کو ہمارا ہمیشہ یہ پیغام رہا ہے کہ رابطے استوار رکھے جائیں اور باہمی اتفاق سے آگے کی راہ تلاش کی جائے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ کابل کے میرے دورے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ افغانستان کی نئی حکومت کی عالمی برادری سے کیا توقعات ہیں۔ اس سے ہمیں یہ موقع بھی میسر آیا کہ طالبان قیادت کو ہم اپنی رائے سے آگاہ کریں اور عالمی برادری کی اُن سے توقعات کو اجاگر کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان رابطے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں تسلیم کرے اور ان کی مدد کرے ۔لہذا یہ کلیدی امر ہے کہ عالمی برادری ماضی کی غلطیاں دوہرانے سے بچے اور مثبت رابطہ جاری رکھے ۔اپنے حصے کے طور پر میں امن، ترقی اور خوش حالی کے راستے پر افغانستان کی مدد کرنے کے ہمارے وزیراعظم کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!