fbpx

کپتان کی تجویزکام کرگئی:پاکستان؛ایران سرحدی علاقوں میں اب اسمگلنگ نہیں تجارت ہوگی6تجارتی مراکزقائم

تہران ، اسلام آباد :عمران خان کی تجویزکا کام کرگئی:پاکستان اورایران سرحدی علاقے میں 6 تجارتی مراکز کھولیں گے ،اطلاعات کے مطابق ایران اور پاکستان نے 6 مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیئے۔

مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب بدھ کو تہران میں دفتر خارجہ میں منعقد ہوئی ۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

مفاہمت کی اس یادداشت کے تحت دونوں ممالک مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے جس سے سرحدوں کے دونوں جانب آباد لوگوں کی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق ایران اور پاکستان نے پہلے مرحلے میں "کوہک-چدگی”، "ریمدان-گبد” اور "پیشین-مند” سرحد پر تین منڈیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے جبکہ تین دیگر سرحدی منڈیوں کے قیام اور ان کے مقام کے بارے میں فیصلہ باہمی صلاح و مشورے سے کیا جائے گا۔

مشترکہ منڈیوں کا انتظام دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے طریقہ کار کے مطابق چلایا جائے گا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک، ایران سرحد پر تجارتی مراکز کا قیام دونوں ممالک کے لیے یکساں طور مفید ثابت ہوگا۔سرحدی علاقے کے مکینوں کی معاشی حالت بہتر بنانےکےلیے یہ ایک انتہائی مؤثر اقدام ہے۔

پاکستان اور ایران کے مابین بارڈر مارکیٹس کھولنے کی تجویز وزیر اعظم عمران خان نے 2019 میں اپنے دورہ ایران کے وقت ایران کے صدر روحانی کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی تھی۔

اس تجویز میں وزیراعظم عمران‌ خان نے کہا تھا کہ ایران کے راستے پاکستان میں اسمگلنگ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اگردونوں ملک متفق ہوکرسرحدی علاقوں میں تجارتی منڈیاں قائم کریں تو اسمگلنگ بھی ختم ہوگئی اورتجارت سے معشیت بھی بہتر ہوگی ، اس تجویز کو ایران نے بہت پسند کیا تھااوراس پراس وقت سے ورکنگ ہورہی تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.