fbpx

بالآخر عمران خان کی 62 ون ایف والی دعا قبول ہوگئی

الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس فیصلہ کےبعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی کہ ہے کیا سابق وزیر اعظم عمران خان 62 ون ایف والی دعا قبول ہوگئی ہے.

اس حوالے سے سینئر صحافی اور میزبان کیپٹل ٹاک حامد میر نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے لیئے گئے اپنے ماضی کے ایک انٹرویو کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا: ‏ایک دفعہ میں نے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان سے پوچھا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین پر 62 ون ایف کی تلوار گری، کہیں یہ تلوار آپ پر بھی تو نہیں گرے گی؟


اس کے جواب میں خان صاحب نے جواب میں کہا تھا "اللّٰہ کرے میرے پر بھی یہ تلوار گرے کیونکہ 62 کا مطلب ہے کہ صادق اور آمین اور یہ قانون ساری دنیا میں ہے.

عمران خان نے مزید کہا: لوگ جب آپ پر یقین کرتے ہیں اور آپ کے کہنے پر امداد کرتے جیسے مجھے شوکت خانم اور نمل کیلئے امداد دی جاتی ہے. لہذا چونکہ آپ نے عوام کا پیسہ اکھٹا کرنا ہے اور پھر اسے دیانت داری سے خرچ کرنا ہے اس لیئے ضروری ہے کہ آپ کا صادق و آمین ہونا لازم ہے اور جو اس قانون پر پورا نہیں اترتا وہ ہرگزصادق و‌آمین نہیں ہوسکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں فارن فنڈنگ کیس: کیا آرٹیکل 62 کے تحت عمران خان نااہل بھی ہوسکتے ہیں؟

ایک اور ویڈیو کلپ میں عمران خان نے کامران شاہد کے پروگرام میں دعوی کیا تھا تھا: ” اگر میں 62 اور 63 پر نااہل ہوجاتا مجھے منظور ہے، لیکن یہ قانون 62 اور 63 آئین کے اندر ہونا ضروری ہے.


عمران خان نے مغربی جمہوریت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون وہاں ضروری ہے کیونکہ اگر آپ صادق و آمین نہیں ہیں تو آپ مغربی جمہوریت کا حصہ نہیں بن سکتے.

انہوں نے مزید کہا تھا: یہ قانون بتاتا ہےکہ آپ کے لیڈر کو ایماندار اور سچا ہونا چاہئے اور یہی دو چیزیں ہیں 62 اور 63 کے اندر.

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جس کے مطابق تحریک انصاف پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوگئی، الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کو جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تھا.

الیکشن کمیشن نے مزید کہا: فارن فنڈنگ کیس ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی شہریوں سے پیسے لیئے جس کی پاکستانی قانون میں اجازت نہیں ہے لہذا تحریک انصاف نے آئین کی خلافی ورزی کرتے ہوئے اس معاملے کو چھپایا.

دوسری جانب جیونیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سو فیصد درست فیصلہ کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک فارن فنڈڈ جماعت ہے اور یہی وجہ ہے کہ جعلی صادق و آمین نے ریکارڈ میں جعل سازی کی اور اکاؤنٹس چھپائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 34غیر ملکی شہریوں اور 351 کمپنیوں سے فنڈز لیتی رہی ہے اور پولیٹیکل پارٹی ایکٹ اور الیکشن ایکٹ کے مطابق بھی ممنوعہ فنڈنگ جرم ہے، حکومت ان مصدقہ ثبوتوں پر ڈکلیریشن دے سکتی ہے اگر سپریم کورٹ یہ ڈکلیریشن برقرار رکھتی ہے تو تحریک انصاف تحلیل ہوجائے گی۔

وزیر داخلہ کاکہنا تھا کہ: الیکشن کمیشن کے فیصلے نے عمران کو جھوٹا اور جعل ساز ثابت کیا، حکومتی اتحاد کی میٹنگ میں فیصلے کے بعد کا لائحہ عمل بنایا گیا ہے، قوم کو عمران خان سے متعلق آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان سیاست میں رہے گا تو نہ جمہوریت رہے گی اور نا ہی سیاست آگے بڑھ سکے گی.

ان کے مطابق: یہ عمران خان کی رعونیت اور تکبر ہے کہ یہ کہتا ہے کہ ملک کے دشمنوں سے بات کرسکتا ہوں مگر سیاسی مخالفین سے نہیں.

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کا معاملہ الیکشن کمیشن میں کوئی دوسری سیاسی مخالف جماعت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اپنے بانی اراکین میں سے ایک اکبر ایس بابر سنہ 2014 میں لے کر گئے تھے۔

اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے ہیں جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔