عمران خان کو پنجاب میں تبدیلی کا کیوں کہا گیا؟ محمد مالک کے اہم انکشافات،مبشر لقمان کے ہمراہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لگتا یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اپوزیشن ڈو اینڈ ڈائی کے موڑ پر آ گئی ہے، حکومت مارچ تک اپوزیشن کو کھینچ لیتی ہے تو انکے لئے صحیح ہو گا،اسلام آباد کی صورتحال کے لئے دوست محمد مالک سے رابطہ کیا ہے

سینئر تجزیہ کار محمد مالک کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے نہیں جاتی،مسائل ہیں لیکن اسوقت اپوزیشن نے سارے پتے سامنے رکھ دیئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر فوج بات کرے یا فوج عمران خان کو مجبور کرے بات کرنے کی،اور اگر دونوں صورتحال نہیں بنتی تو ایک نیا آرڈر نکلے،انکے لیگل ایشوز سب کو پتہ ہیں،ان کے بھائی صاحب کے لیگل ایشوز بھی سب کو پتہ ہیں، ہم بار بار بات کرتے ہیں حکومت کے لئے بڑا ایشو مہنگائی ہے، پنجاب میں مسائل ہیں، اسکے اوپر راولپنڈی اور اسلام آباد ایک پیج پر نہیں ہیں، یہ ایک خبر دے رہا ہوں، کئی بار ڈسکس کر چکا ہوں، تین چار دفعہ وزیراعظم کو کہا کہ چینجز کریں، وزیراعظم نے تبدیلی کرنی ہیں،وزیراعظم اگر بدلتے ہیں تو چوھدری آگے آ جاتے ہیں، مگر پنجاب کا مسئلہ ہے، اگر پنجاب اور وفاق میں تبدیلی نہ کی تو یہ ہے اصل خطرہ، مہنگائی ہے اصل خطرہ، وزیراعظم کو کہا جا رہا ہے اکانومی ٹھیک ہے ،بے روزگاری،مہنگائی، ٹیکسز پورے کرنا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، پاکستان خالی دعووں پر نہین چلتا، انڈسٹری میں بہت زیادہ مسائل ہیں، جلسہ ہوتا ہے دو دن پروگرام کرتے ہین پھر بھول جاتے ہیں کس کو جلسہ یاد ہے گوجرانوالہ کا،کسی کو نہیں،

محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی مین اپوزیشن کو استعفے دینے چاہئے لیکن کیا پی پی استعفے دے گی سندھ سے ؟ تو پھر جب جو اصل ہتھیار ہے استعفوں کا اس میں سندھ نے تو کرنا نہیں، پھر کیا ہو گا، سب کو پتہ ہے انہوں نے نہیں کرنا،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری بے نظیر سے ایک بار بات ہوئی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ سب سے بڑی غلطی تھی جس پر محمد مالک کا کہنا تھا کہ بلاول نے گلگت میں کہا تھا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ میری والدہ اپوزیشن کیوں چلاتی رہیں، ریزائن کرنا ایک وارن ہوگا، کل پرسوں جنہوں نے سخت تقریر کی پشاور کے اندر، جی بی میں الیکشن ہوا،پی پی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،پی پی اسلئے سب کر رہی ہے کہ ایسا نہ لگے کہ فرینڈلی اپوزیشن ہے، جہاں نواز شریف جانا چاہتے ہیں پی ڈی ایم وہاں نہیں جائے گی،

محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ پاور کی اپنی ڈائنامکس ہیں،اپوزیشن کی اپنی ہیں لیکن بالکل سٹریم پوزیشن لے کر آنا….جہاں ٹینشن کی بات یہ ہے کہ ماضی میں فوج سرکار اور اپوزیشن کے درمیان کردار ادا کرتی تھی،یا عدالت کرتی کبھی ضمانتیں دے دیں، کیسز بنا دیئے اب میاں صاحب نے دونوں کو نشانے پر رکھ دیا تو بات کون کرے گا، میاں صاحب کا خیال ہے کہ اتنا پریشر بڑھا دوں گا کہ یہ بات کریں لیکن وہ تب ہو گا جب یہ استعفے دے کر سڑکوں پر آ جایں گے، مہنگائی کا مسئلہ بہت ہے، گیلپ کا سروے آیا، نوکریاں لوگوں سے چھن گئیں، آٹا نہیں مل رہا عام آدمی کو ،اس پر عمران خان کو توجہ دینی چاہئے، آٹا جب مہنگا ہوتا ہے تو چیخیں نکل جاتی ہیں، حکومت کو ان پر توجہ دینی چاہئے، سستے بازار لگائیں یا جو کریں،عوام کو ریلیف دیں،

محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ پرانے ریٹس سے بھی چیزیں نیچے لائے، نو روپے کم کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، پی ٹی آئی ورکرز بھی مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، یہ کہہ دینا کہ ہمیں احساس ہے اس سے فرق کوئی نہیں پڑتا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.