بھارت : خواتین ٹرینی کلرکوں کوکپڑے اتارکرگروپوں میں کھڑا کرنے کا انکشاف

قومی خواتین کمیشن ( این سی ڈبلیو ) نے گجرات کے سورت میں سورت میونسپل کارپوریشن ( ایس ایم سی ) کی خواتین ٹرینی کلرکوں کو طبی معائنے کے نام پر ریاستی سرکاری اسپتال میں مبینہ طور پر کپڑے اتار کر طویل وقت تک 10-10 کے گروپ میں کھڑے کرنے کے لئے مجبور کئے جانے کے معاملے میں نوٹس لیا ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ شرمناک واقعہ بھَج کے خواتین کالج میں طالبات کو کپڑے اتارنے پر مجبور کئے جانے کے محض ایک ہفتے بعد جمعرات کو پیش آیا ۔

ٹرینی خواتین کلرکوں کو نہ صرف کپڑے اتارنے کے لئے مجبور کیا گیا بلکہ ان گائنا کولوجیکل فنگر ٹیسٹ بھی کیا گیا اور انتہائی ذاتی سوال بھی پوچھے گئے ۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد قومی خواتین کمیشن نے نوٹس لیا ہے ۔ کمیشن نے جمعہ کو ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس سلسلے میں گجرات کے چیف سیکریٹری انیل مكيم اور پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر جینتی ایس روی کو معاملے کی تحقیقات کر کے جلد از جلد رپورٹ بھیجنے کے لئے کہا ہے ۔

خواتین ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ خواتین ملازمین کو ایک کمرے میں گروپوں میں ایک ساتھ برہنہ کھڑے ہونے کے لئے مجبور کیا گیا ، جہاں ان کے حقِ خلوت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا ۔ یہاں تک کہ کمرے کا دروازہ بھی ٹھیک طرح سے بند نہیں تھا اور صرف پردہ لگا ہوا تھا ۔ غیر شادی شدہ خواتین سے بھی مبینہ طور پر پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی حاملہ ہوئی تھیں ۔

کچھ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ جانچ کرنے والی خاتون ڈاکٹر ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئیں ۔ اس کے برعکس مرد ٹرینی کو ایک عام طبی معائنے سے گزرنا پڑتا ہے ، جس میں آنکھ ، ای این ٹی ، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ شامل ہوتی ہے ۔ تین سال کے پروبیشن کے بعد سروس کی تصدیق کے لئے اس کا طبی معائنہ ضروری ہوتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.