fbpx

بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کسانوں کی تحریک نے مودی سرکار کے لئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں، کسان بڑی تعداد میں دہلی میں جمع ہیں اور کسانوں نے 8 دسمبر کو بھارت کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

کسان ، تاجر ، ٹریڈ یونین ، سرکاری ملازم اور دیگر انجمنوں سے کسان یونینوں نے اپیل کی ہے کہ 8 دسمبر کو بھارت بند کرنے کو کامیاب کرنے کے لئے کردار ادا کریں،ایک مشترکہ بیان میں دس پارٹیوں نے دہلی کے سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کے مطالبات پر مرکزی حکومت کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔ بڑی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر کھانے کے ذخیرہ اور ٹریکٹر کے ساتھ قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ مودی سرکار مذاکرات کی آڑ میں کسی فیصلے میں تاخیر کررہی ہے اور کسان اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں

تمل ناڈو کی اپوزیشن جماعتوں کی دس جماعتوں نے کسانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے ، جن دس جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا ان میں ڈی ایم کے ، ایم ڈی ایم کے ، سی پی آئی ، سی پی آئی (ایم) ، وی سی کے ، آئی یو ایم ایل ، کانگریس ، ایم ایم کے ، آئی جے کے اور کے این ایم این کے بھی شامل ہیں۔

کسانوں کے 8 دسمبر منگل کو بھارت بند تحریک کو تمام اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل ہے ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ نئے زرعی قوانین بھارت کی زراعت کو تباہ کردیں گے ۔ کسانوں کو اپنی زمینات کارپوریٹ گھرانوں کے پاس گروی رکھنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی صدر شردپوار ، نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ ، ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن ، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو ، سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ، سی پی آئی کے ڈی راجہ ، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور سی پی آئی ایم ایل کے دیپانکر بھٹا چاریہ نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے.

چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے عام آدمی پارٹی کے تمام کارکنان پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کریں ۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ نئے قوانین غیرجمہوری طریقہ سے لائے گئے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں منظور ان قوانین کے ذریعہ کسانوں کو بے بس کیا جارہا ہے ۔مودی حکومت کی پالیسیوں سے ہندوستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے

بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

مودی سرکار کی طرف سے پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے تین زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تحریک کو پنجاب اور ہریانہ کے بعد اتر پردیش کے کسانوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور متعدد ریاستوں کے کسانوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں سے حکومت کی کئی دور کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ اب گاؤں گاؤں میں احتجاج کی آگ پھیل رہی ہے اور لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں کسان دہلی جا کر احتجاج میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

: