fbpx

بھارت نے سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا بھی تجربہ کر لیا

نئی دہلی: بھارت کا سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا تجربہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت نے سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اندامان اور نیکو بار جزائر کے فوجی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بحری بیڑے اور اے این سی نے 27 اپریل کو براہموس کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے ایک بار پھر ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔

بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر نے براہموس میزائل کے سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے مناظر بھی شیئر کیے ہیں۔

براہموس میزائل جس کا نام ہندوستان کے دریا برہم پترا اور روس کے دریائے ماسکو کے نام پر رکھا گیا ہے، دونوں ممالک نے مشترکا طور پر تیار کیا ہے۔

اِس سے قبل بھارتی فوج نے 24 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے جوہری صلاحیت کے حامل زمین سے زمین پر مار کرنے والے سپر سونک براہموس کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

براہموس سپر سونک کروز میزائل آبدوز، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور زمین سے بھی داغے جا سکتے ہیں۔

بھارت میں شدید گرمی اور اُس پر بجلی کے بحران نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور لوڈ شیڈنگ کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ ملک کے بعض شہروں میں 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

بھارت میں گزشتہ چھ برسوں میں بجلی کا یہ سب سے سنگین بحران ہے جبکہ بجلی کی مانگ گزشتہ چار دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت کو اسکول و کالج بند کرنے پڑے ہیں جبکہ متعدد مسافر ٹرینیں بھی منسوخ کرنی پڑی ہیں۔

اس ہفتے جنوبی ایشیا میں گرمی عروج پر رہی۔ مارچ کا مہینہ بھی تاریخ کا سب سے گرم مہینہ ثابت ہوا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے دارالحکومت دہلی کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہے۔

محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں دہلی میں درجہ حرارت 44 ڈگری اور شمال مغربی بھارت کے بعض علاقوں میں 47 ڈگری تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے حالآنکہ ابھی مئی اور جون کی شدت سے بھرپور گرمی باقی ہے۔

محکمہ موسمیات نے بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ سے پہلے عملی اقدام کے لیے اورنج الرٹ جاری کر دیا ہے۔

تیزی سے بڑھتی گرمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کے بیمار پڑنے کا خطرہ ہے جس کے لیے ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔ خیال رہے کہ بھارت میں ہر سال لو لگنے سے ہزاروں افراد کی موت ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے تقریباً تمام بجلی گھروں کو کوئلے کی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بجلی کے ایک بڑے بحران کا خطرہ ہے۔

حکومت نے بجلی گھروں کو کوئلے کی تیز رفتار ترسیل کے لیے بعض مسافر ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں تقریباً 70 فیصد بجلی کی پیداوار تھرمل پاور اسٹیشن سے ہوتی ہے جہاں کوئلے کا استعمال کیا جاتا ہے۔