fbpx

بھارت کاافغانیوں پرمضرصحت ویکسین دینےکااحسان :افغان باشندے مرنےلگے:خطرناک حقائق سامنے آگئے

کابل :بھارت کا افغانیوں پرمضرصحت ویکسین دینے کا احسان:افغان باشندے مرنے لگے:خطرناک حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق افغانستان وزارت صحت نے بھارت کی طرف سے کئے گئے احسان کوافغانیوں کی تباہی سے تعبیرکردیا ہے

افغان وزارت صحت کے مطابق بھارت نے افغانستان کو اینٹی کورونری ایسٹروجن ویکسین کی 900،000 خوراکیں فراہم کی ہیں۔ لیکن یہ جاننا ان واقعات کے بعد جن میں اس ویکیسن نے فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچایا ضروری ہے کہ ہندوستانی ویکسین ایسٹرا زینیکا کا معیار کیا ہے؟

اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین آسٹر زینیکا ویکسین کا معیاراس قدر ناقص ہے کہ کہا جاسکتا ہےکہ اس ویکسین کے فوائد کم اورنقصانات بہت ہی زیادہ ہیں

 

یادرہے کہ اس سے پہلے ہندوستان نے جنوبی افریقہ کو بھی آسٹرا زینیکا سے پولیو کے قطرے پلائے تھے۔ جنوبی افریقہ کے صحت کے کارکنوں کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ویکسین پرانی ہے اور اس نے فائدہ دینے کی بجائے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کویہ ویکسین واپس بھی بھیج دی گئی تھی

 

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارت نے جنوبی افریقہ سے واپس کی گئی ویکیسن کو ری پیک کرکے افغانستان کو دی ہے۔

سابق افغان نائب وزیر برائے فرانزک میڈیسن نے ان درجنوں مردوں سے خون کے نمونے لئے ہیں جنھوں نے ہندوستانی ساختہ اسٹرازینیکا ویکسین استعمال کی تھی ، جو خون میں جمنے اور موت کا سبب بنی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یورپ میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ بہت سارے لوگوں کے دماغ میں خون کے دھبے پائے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ، لوگوں کے دماغوں میں خون کے جمنے کی بنیادی وجہ اینٹی کورونری ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یورپی یونین کے درجنوں ممالک نے اس ویکسین کوخطرہ قراردیتے ہوئے ویکسین کا استعمال روک دیا ہے۔

 

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس حوالے سے جرمنی اور ناروے کی طبی ماہرین کی ٹیموں نے اسٹرازنیکا ویکسین کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ویکسین جسم کے قوت مدافعت کے نظام پر حملہ کر سکتی ہے اور موت کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اسی دوران پاکستان کے سینیئر صحافی مبشرلقمان بھی اس بھارتی ویکیسن کے نقصانات اوراستعمال کرنے کی صورت میں خطرات کی نشاندہی کرچکے ہیں‌

 

کینیڈا نے پانچ سال سے کم عمر لوگوں میں خون کے جمنے کے خوف سے یہ ویکسین معطل کردی ہے۔

ان حقائق کے منظرعام پرآنے کے بعد افغان رہنماوں کا کہنا ہے کہ یہ مطالعات اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ بھارت صرف بظاہراحسان کرنے کے لئے افغانیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

ادھرافغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہندوستان جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

بھارت میں افغانستان کے سفیر فرید مومند نے بتایا کہ پچھلے دو ہفتوں میں سات طالب علموں سمیت 30 افغانی کورونا سے مر چکے ہیں اور سیکڑوں مزید افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ہندوستان جانے والے افغان طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہے اور اب تک ہندوستان میں افغان طلبہ کو قطرے پلانے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.