بھارت: قرنطینہ سینٹر میں خاتون کا گینگ ریپ ، مودی حکومت میں جنسی درندگی کے واقعات میں اضافہ

نئی دہلی :بھارت: قرنطینہ سینٹر میں خاتون کا گینگ ریپ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی ریاست راجستھان میں پولیس نے قرنطینہ میں موجود خاتون کا گینگ ریپ کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راجستھان کی پولیس نے خاتون کو ریاستی اسکول کے قرنطینہ سینٹر میں رکھا تھا۔واضح رہے کہ بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے نقل و حرکت معطل ہے۔متاثرہ خاتون لاک ڈاؤن کی وجہ سے مادھو پور میں پھنس گئی تھیں جس کے بعد انہوں نے پیدل ہی جے پور جانے کا فیصلہ کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کی عمر 40 سے 45 سال بتائی گئی۔مقامی پولیس اسٹیشن کے ایچ ایس او نے بتایا کہ خاتون جے پور جاتے ہوئے راستہ بھول گئیں اور مذکورہ گاؤں میں پھنس گئیں۔بعدازاں گاؤں والوں نے خاتون کو کورونا وائرس میں مبتلا سمجھ کر زبردستی اسکول میں تنہا چھوڑ دیا۔

پولیس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے خاتون کو اسکول میں تنہا چھوڑنے پر اعتراض بھی کیا تھا۔حکام نے بتایا کہ اسی رات 3 ملزمان نے خاتون کا گینگ ریپ کردیا۔پولیس کے مطابق تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرلیا گیا۔ان کے مطابق تمام ملزمان کی عمریں 20 برس کے لگ بھلگ ہیں۔

علاوہ ازیں پولیس نے بتایا کہ وائرس سے متعلق طبی معائنے کے لیے خاتون کے ٹیسٹ کے رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔متاثرہ خاتون، جس کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہے، نے پولیس کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک گاؤں میں پہنچنے سے پہلے کئی دن پیدل چل رہی تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں بھی ایسی طرح کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔

بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا کے ایک ہسپتال میں کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے بہانے روکی گئی خاتون کا مسلسل 2 دن تک مبینہ طور پر گینگ ریپ کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔گینگ ریپ کے باعث مذکورہ خاتون ہلاک ہو گئیں تھیں جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بھی خطرناک حقائق بیان کیے گئے ہیں۔بھارتی حکومت کے ادارے ’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ کیا جاتا ہے۔

این سی بی آر کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر ’ریپ‘ کے کیسز تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.