fbpx

ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی بول اُٹھے

ملک کا موجودہ ماحول خوفناک ہے،اگریہی صورتحال رہی توملک کوٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا، اس وقت ملک کی سلامتی کےلیے تمام طبقات سے اتحاد کو برقرار رکھنے سے ہی ممکن ہے

نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے ملک کی موجودہ صورتحال پر بہت سخت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ سب میں اتحاد قائم رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ امرتیہ سین نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں؟ تومیں ہاں کہوں گا۔” ڈرنے کی ایک وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امرتیہ سین نے یہ باتیں کولکتہ میں امرتیہ ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر کہیں۔

امرتیہ سین نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک متحد رہے۔ میں ایسے ملک میں تقسیم نہیں چاہتا جو تاریخی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنا والا رہا ہے۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ ہندوستان صرف ہندوؤں یا مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ملک کی روایات کی بنیاد پر متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ نیز مسلمان اکیلے ہندوستان کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ امرتیہ سین نے کہا کہ ہندوستان میں رواداری کی موروثی ثقافت ہے کیونکہ یہودی، عیسائی اور پارسی صدیوں سے ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

انڈیا کے ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ‘ممکنہ تباہی’ کا سامنا ہے۔

امرتیا سین نے کولکتہ میں ھونے والی ایک تقریب میں کہا کہ ہندوستان آج جس بھیانک بحران کا سامنا کر رہا ہے وہ "ملک کا ممکنہ تباہی” ہے۔کولکتہ میں امرتیا ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر سین نے کہا، کہ”مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں، تو میں کہوں گا ‘ہاں’۔ اب ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بن گئی ہے”۔

 

 

"’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ اور اکیلے مسلمان بھی ہندوستان کو نہیں بنا سکتے”۔اگرہندوستان کوبچانا ہے توسب سے پہلے ملک کے اندراقلیتوں کے ساتھ نفرتیں ختم کرنا ہوں گی ان کے حقوق ان کو دینے ہوں گے اورپھران کو عزت بھی دینا ہوگی تب جاکرہندوستان کی واپسی ممکن ہے

 

یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کو جرمن بُک انڈسٹری کے معتبر ترین امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ 86سالہ پروفیسر کے مطالعے اور تجزیے دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جرمن کتابی صنعت کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے ’جرمن امن انعام‘ کے حقدار بھارتی معیشت دان اور فلسفی امرتیا سین قرار پائے ہیں۔ اس بورڈ کے بیان کے مطابق چھیاسی سالہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کو کئی دہائیوں تک ’عالمی انصاف‘ کے امور پر غور و فکر کرنے کے احترام میں امن انعام سے نوازا جا رہا ہے۔بورڈ نے کہا کہ پروفیسر سین کا مطالعہ دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کے خلاف جنگ میں ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ قابل اطلاق ہوتا ہے