fbpx

انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف، سابق آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال سے ہونے والے زخمیوں کا الزام بھارتی سیکیورٹی فورسز پر عائد نہیں ہوتا کیونکہ پتھراو کرنے والے کشمیری پیلٹ گنز سے ‘زیادہ خطرناک’ ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاونڈیشن کے زیر اہتمام انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن روات نے کہا کہ ‘پیلٹ گن غیر مہلک ہتھیار ہے جو اب بہت شاذ و نادر ہی استعمال ہوئی ہے. سیکیورٹی اہلکار وادی کشمیر میں پتھرا وکرنے والوں کے خلاف پیلٹ گنوں کا "شاذ و نادر ہی” استعمال کرتے ہیں ۔ایسے انتہا پسند نوجوان بھی ہیں جو پتھرا وکرتے ہیں اور یہ بھی پیلٹ گن کی طرح مہلک ہے۔ ہماری افواج کے بہت سے نوجوان بھی اسی طرح کا پتھراو کا شکارہوئے ہیں جس میں ان کی موت بھی ہوئی ہے۔ تو اس طرح ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سیکیورٹی فورسز پتھراو کے خلاف پتھروں کا استعمال کرتے ہیں۔

جنرل بپن راوت نے دن دہاڑے جھوٹ بولتے ہوتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان مظاہرین کے صرف پیروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے،اگر ہم بھاری ہاتھ رکھتے تو ہمیں یہ جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا ، اب ہم پتھراوسے نمٹنے کے لئے مختلف طریقے وضع کر چکے ہیں اور پیلیٹ گنز وادی میں اب بہت کم استعمال ہو رہی ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار پتھرا وکرنے والوں کی ٹانگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو جھکتے ہی چہرے پر بھی لگ جاتے ہیں اور اس کے لئے فورسز کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

جنرل بپن راوت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورسز کے تحت بلیک لسٹ کرنے جارہے ہیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی. ہمیں دہشت گردی کے خلاف ایسا ہی طرز عمل اپنا ہوگا جس طرح امریکا نے نائن الیون کے بعد شروع کیا۔

واضح رہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مظاہروں کو قابو کرنے کے لیے پیلٹ گنز کے ایسے کارتوس استعمال کیے جا رہے ہیں جس میں ایک وقت میں 300 سے 600 چھرے بھرے جاسکتے ہیں۔2014 میں 20 ایسے لوگوں پر تحقیق کی گئی جن کی آنکھیں کشمیر میں پیلٹ چھروں کی وجہ سے زخمی ہوئی تھیں، اس تحقیق کے مطابق ان افراد میں سے 33 فیصد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پائے تھے۔

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال کرتی ہے،برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے سینکڑوں کشمیریوں کی بینائی چھینی، بھارتی فوج نے کشمیریوں پر پیلٹ برسائے اور پیلٹ برسانے کے سینکڑوں واقعات پیش آئے.