بھارت کشمیر میں مکمل نسل کشی کی طرف جا رہا ہے ،مشعال ملک

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر میں مکمل نسل کشی کی طرف جا رہاہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مشعال ملک کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں رہنماؤں سے کوئی رابطہ نہیں ہوپا رہا ،یاسین ملک کےکیس کی 11ستمبر کو سماعت ہے ،بھارت کشمیر میں مکمل نسل کشی کی طرف جا رہاہے،خبریں آرہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 8سے 9ماہ جاری رہ سکتاہے ، 29 اگست کے بعد سے بھارت میں طیاروں کی آمد پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے،

کشمیر میں ادویات،خوراک کی قلت، عالمی برادری توجہ دے، ترجمان دفتر خارجہ

مشعال یاسین ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نےکشمیر کا اقتصادی بلیک آؤٹ کیا ہواہے .کشمیریوں کا حوصلہ بڑھتاجا رہاہے ،کشمیریوں پرجنگ سالوں سےمسلط ہے ،مودی سیاستدان نہیں قاتل ہے،ہندوستان نےہمیشہ پاکستان کودھوکادیا ،

مقبوضہ کشمیر میں زندگیاں خطرے میں، اور مظفرآباد میں بے شرمی کی تمام حدیں عبور کر لی گئیں

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو تین ہفتے گزر گئے ،بھارتی فوج کرفیو میں معمعولی سی بھی نرمی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بدستور تین ہفتے تک تسلسل کے ساتھ کرفیو رکھنے کی روایت دنیا میں نہیں ملتی ،مہذب دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ جہاں بھی کرفیو ہو وہاں دوسرے دن نرمی کی جاتی ہے یا ایک دو دن بعد کرفیو اٹھا لیا جاتاہے تاکہ لوگ اشیائے ضرورت لے سکیں.بھارت نے یہ سب ریکارڈ توڑ دیے اور مسلسل تیسرے ہفتے سے کرفیو جاری ہے . بیمار ادویات لینے سے قاصر ہیں. بچے دودھ پینے سے محروم ہیں.لوگوں کے پاس اشیائے ضروریات کی قلت ہے.کشمیری اب ضرورت زندگی سے دو دو ہاتھ تنگ ہیں.ان تمام حالات میں کشیری اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں.

ثابت ہوگیا بھارت دنیا سے حقائق چھپا رہا ہے، شاہ محمود قریشی

مقبوضہ کشمیر میں مام تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروباری مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند ہے،کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں. کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے حریت رہنماؤں سمیت کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار و نظر بند کر رکھا ہے. اس کے باوجود کشمیری بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، بارہمولا میں بھارتی فوج نے دو کشمیری شہید کئے، درجنوں‌ کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں سے زخمی کیا گیا، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، گھروں میں چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کے ساتھ بھی دست درازی کی گئی.

بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کا دورہ کرنا چاہا تو مودی سرکار نے سرینگر ائیر پورٹ سے انہیں واپس بھجوا دیا،کشمیریوں سے نہیں ملنے دیا گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.