بھارت کی جانب سے کینیڈا کی سیاست میں دخل اندازی کا اسکینڈل سامنے آ گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے کینیڈا کی سیاست میں دخل اندازی کا اسکینڈل منظرعام پر آ گیا جس میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیاں کینیڈا کے سیاست دانوں کو خریدنے کی کوششیں کرتی رہیں۔

کینیڈا کی فیڈرل کورٹ میں بھارت کے ایک شہری کے خلاف جاسوسی کا مقدمہ چلا ہے جس میں کینیڈا کے معاملات میں بھارتی مداخلت بارے انکشافات ہوئے ہیں۔ بھارت کی دو خفیہ ایجنسیوں ”را“ اور ”آئی بی“ کی جانب سے بھارتی شہری کا استعمال کرکے کینیڈا کے سیاست دانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوششیں کی گئیں جن سے کینیڈا کے سیکیورٹی حکام نے پردہ اٹھا دیا ہے۔ جاسوسی کے الزام میں مقدمہ کا سامنا کرنیوالا شخص بھارتی اخبار کا ایڈیٹر اِن چیف ہے جس کی اہلیہ اور بیٹے کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔

بھارتی شہری کی جانب سے مبینہ طور پر 6 برس کے عرصہ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے 25 ملاقاتیں کی گئیں تاہم اس نے کینیڈا کے سیکیورٹی حکام کو بتایا گیا ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے حکام سے بطور ایڈیٹر ملا ہے۔ گلوبل نیوز کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا میں جاسوسی کیس بھگتنے والے بھارتی شہری کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بھارت کی دونوں ایجنسیوں نے اسے مختلف کام سرانجام دینے کو کہا تھا۔ اس کے مطابق ایجنسیوں نے اسے بطور غیرسرکاری سفیر یا لابسٹ کے کام کرنے کا کہا تھا تاہم اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

جاسوسی مقدمہ کا سامنا کرنیوالے شخص کی جانب سے کینیڈا کے حکام کو بتایا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے اسے خفیہ طور پر کینیڈا کے سیاست دانوں اور ایجنسیوں پر اثرانداز ہونے کا ٹاسک دیا تھا۔ امیگریشن حکا م کی جانب سے 30 مئی 2018 کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس شخص نے بھارتی ایجنسیوں کی ایماء پر سیاستدان ڈھونڈھ کر ان پر ایسے معاملات میں حمایت لینا تھی جو بھارت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس خط میں امیگریشن حکام نے مزید کہا ہے کہ اس بھارتی شخص نے ’ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ‘ کی ہدایات کی روشنی میں کینیڈا کے سیاست دانوں کو مالی معاونت اور پراپیگنڈا کیلئے مواد کی فراہمی کا کام بھی سرانجام دینا تھا۔

اس خط میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارتی شخص نے کینیڈا کے سیاست دانوں کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ کینیڈا کی جانب سے پاکستان کو دی گئی فنڈنگ سے دہشت گردی کو اسپورٹ کیا جارہا ہے۔ گلوبل نیوز کی جانب سے منظرعام پر لائی گئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس خفیہ آپریشن کو سال2009ء میں شروع کیا گیا تھا۔ کینیڈا کی جانب سے گزشتہ ماہ غیر ملکی مداخلت بارے ’نیشنل سیکیورٹی اینڈ انٹیلی جنس کمیٹی آف پارلیمنٹیرینز‘ کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ چین، روس اور دیگر ریاستوں کی جانب سے کینیڈا کے معاملات میں مداخلت کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس میں حکومت کے منتخب اور دیگر سرکاری حکام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

دنیا کرونا سے مررہی ہے ، بھارتی خفیہ ایجنسیاں غیرملکی سیاستدانوں کے ذریعےپاکستان کو عدم استحکام کا شکارکررہی ہیں

اس رپورٹ میں غیر ملکی مداخلت میں بھارت کا نام نہیں لیا گیا مگر بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد کا تذکرہ ضرور کیا گیا تھا، اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کینیڈا کے 12 لاکھ شہری بھارتی نسل کے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.