اقلیتوں کو نشانہ بنانے سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ،مودی سرکار کو کیا بے نقاب

اقلیتوں کو نشانہ بنانے سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ،مودی سرکار کو کیا بے نقاب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ سامنے آ گئی

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سرکاری پالیسیاں اوراقدامات اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،بھارت نے مسلمانوں کومنظم طورپرامتیازی سلوک کانشانہ بنانے والی پالیسیاں بنائیں، بھارتی حکمران جماعت پولیس،عدلیہ اورخود مختاراداروں میں مداخلت کررہی ہے،بھارتی حکام نےدلی فسادات کی معتبر،غیرجانبدارانہ تحقیقات نہیں کیں، نئی دلی میں 23فروری کے فسادات میں ہلاک 52 افراد میں سے 40مسلمان تھے،بی جے پی کو مذہبی اقلیتوں کو دھمکانے ،ہراساں ،حملہ کرنے کا اختیاردے دیا گیا ہے

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈرزنے شہریت قانون کے خلاف مظاہرین پرقومی مفاد کیخلاف سازش کا الزام لگا دیا، بھارتی حکومت اقلیتوں پرحملہ کرنے والوں کو سیاسی سرپرستی دے رہی ہے،بھارتی حکومت مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کوحملوں سے بچانےمیں ناکام رہی بھارتی حکمران جماعت کے اقدام سے مساویانہ حقوق کو نقصان پہنچاہے،

 

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی نے ہندواکثریت کو سرکاری اداروں میں بھرتی کرلیاہے،بھارتی حکام اب کسان احتجاج میں شامل اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بھارت نے فسادات کی تحقیقات کے بجائے کارکنان اوراحتجاجی منتظمین کو نشانہ بنایا،دلی میں فسادات بھڑکانے میں بی جےپی لیڈرز اورپولیس حکام پرالزامات ہیں بھارتی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کسان مظاہروں میں شریک افراد کوطفیلیے کہا،بھارتی وزیراعظم نےکسانوں کے معاملے پرعالمی تنقید کو تباہ کن نظریہ کہا،بھارت میں ماہرین تعلیم، دیگرناقدین کونشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا، بھارت میں اقلیتوں،کمزوروں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو ہراساں کیا جارہا ہے مودی حکومت میں قانون سازیوں میں اقلیتوں سےا متیازی سلوک کوجائزقراردیا گیا

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اقلیتوں کےتحفظ کی پابندہے، بھارتی حکومت اقلیتوں سےامتیازی سلوک کرنےوالوں کےخلاف کارروائی کی پابندہے بھارتی حکومت اقلیتوں پرتشددکرنےوالوں کےخلاف کارروائی کی پابندہے،بی جے پی حکومت کے اقدامات سےبھارت میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلی ہے،بھارت میں اقلیتی برادریوں میں حکام سے بہت خوف اور عدم اعتماد پیدا ہوا ہے

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر کے وسیع پیمانے پرپابندیاں لگادیں کشمیرمیں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا،کشمیر میں صحافیوں، وکلا سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیاگیا،بھارتی حکومت نے کشمیرمیں18 ماہ تک انٹرنیٹ کا شٹ ڈاؤن کیا،کشمیرمیں بھارتی آپریشنزسے صحافیوں،انسانی حقوق کے کارکنوں کوہراساں کیا جارہا ہے،بی جےپی لیڈرز،ان کےحامیوں نے کسان احتجاجی تحریک کو بھی سازش قرار دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.