بھارت، ہجومی تشدد کا سلسلہ جاری

0
50

بھارت میں ہجومی تشدد کے ذریعے لوگوں کو سزا دینے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

بھارت ، بیمار بچے کے ماں باپ بھی ہجومی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے

تازہ واقعہ بھارتی ریاست بہار کے ضلع پٹنہ میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان کو مویشی چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

بھارتی میڈیا نے پولس کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ برہان پور کے رہائشی مقتول اور اس کے کچھ ساتھی سوموار کی رات چوری کی نیت سے مور گاوں میں گئے تھے۔ گاو¿ں والوں نے پولیس کو بتایا کہ جب چور کھونٹے سے بندھی گائے اور بیل کو کھول رہے تھے تو مویشی پروروں کی آنکھ کھل گئی اور لوگوں نے چوروں کو دوڑا دیا۔

ہجومی تشدد پر خط لکھنے والوں کے خلاف مقدمہ، سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

تاہم ایک ملزم دیہاتیوں کے ہتھے چڑھ گیا جبکہ دوسرا مشتبہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ دیہاتیوں نے مبینہ ملزم کو لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے وار سے شدید زخمی کر دیا۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے گاوں والوں کے چنگل سے زخمی نوجوان کو بازیاب کرایا اور اسے علاج کے لئے مقامی اسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔

بھارت، ہجومی تشدد میں ایک مزدور کی جان کیوں لی گئی؟

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ بھارتی ریاست بہار میں ہجومی تشدد کے ایک واقعہ میں ایک مزدور کی جان لے لی گئی تھی۔یہ واقعہ بھاگلپور میں پیش آیاجہاں 36سالہ افشار انصاری کو مار مار کر قتل کر دیا گیا۔ جگدیش پور تھانہ حلقہ واقع چک فاطمہ کے قریب لوگوں کے ہجوم نے افشار کو بچہ چور سمجھ کرشدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔

افشار دیہاڑی دار مزدور تھا اور ہفتہ کی شام جب وہ اپنے گھر واپس جارہا تھا تو کچھ لوگوں نے اسے بچہ چور سمجھ کر پیٹنا شروع کر دیا اور نیم مردہ حالت میں ندی کے کنارے پھینک کر چلے گئے ۔شدید زخمی افشارنے وہاں تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دی۔

Leave a reply