بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے

سری نگر میں تین کشمیری نوجوانوں کو فیک انکاؤنٹر میں بھارتی فوج نے شہید کیا جو کہ طالب علم تھے اور لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہیں، بھارتی فوج اور مودی سرکار کے خلاف کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا

اس موقع پر شدید جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، والدین کا کہنا تھا کہ ایک ہی چراغ تھا جو بجھا دیا، اب کوئی نہیں، ہم کس سے مانگیں ، اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی جو دھاڑیں مارتے روتے نظر آئیں،

سرینگر میں احتجاج کے دوران مائیں رو رہی تھیں انہین کوئی دلاسہ دینے والا نہ تھا، بھارتی ظالم فوج نے بے گناہ نہتے کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، اس پر کشمیری احتجاج ریکارڈ کروائیں تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،

بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں شہید کرنے والوں کی لاشیں بھی واپس نہیں کرتی، سرینگر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کشمیری آج سڑکوں پر نکلے اور بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا

قبل ازیں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں تین معصوم شہریوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم کشمیریوں کے قتل کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ روز جعلی مقابلے میں بھارتی قابض افواج نے تین کشمیری مزدوروں کو شہید کیا، اور واقعے کو مقابلے کا رنگ دینے کی بھونڈی کوشش کرتے ہوئے شہید مزدوروں کے ساتھ اسلحہ رکھ دیا گیا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ان مزدوروں کے قتل کی شفاف طریقےسےتحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق جعلی سرچ آپریشن اور جعلی مقابلوں کےنام پر ان کو شہید کیا گیا، دنیا ان مظالم پربھارت کو جواب دہ بنائے۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کے مطابق کشمیری لوگوں کےخلاف بھارتی جرائم کی طویل فہرست ہے، ایک سال میں تین سو معصوم کشمیری،خواتین اوربچوں کو شہیدکیا جاچکا ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے حوالہ سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر جعلی مقابلوں کے خلاف ٹرینڈ بھی چلایا گیا جس میں بڑی تعداد میں صارفین نے حصہ لیا اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا،

رواں برس مال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنےکی تصدیق ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسرکیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3کشمیری نوجوانوں جو آپس میں کزنز تھے کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قراردیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پراسلحہ رکھا تا کہ بےگناہ نوجوانوں کوخطرناک دہشتگرد قراردیا جاسکے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے نامعلوم مقام پرخاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کےسامنےنہ آسکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کرلیا۔

اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کےباغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے 18جولائی کو مقبوضہ کشمیر ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا،جعلی مقابلے کا اعتراف بھارتی فوج خود کر رہی ہے۔

مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے پچھلے تین مہینے سے نوجوانوں کو حراست میں لے رکھا تھا،نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد انکی لاشیں مسخ کی گئی،بھارتی فورسز نے لاشیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی،کشمیر کے ہر گھر میں جعلی انکاونٹر کی داستان موجود ہے۔

مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں،اور جعلی مقابلے میں شہید کر دیتی ہیں،اقوام متحدہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔اقوام متحدہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی آزادانہ انکوائری کروائے،بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.